بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

سب لیزمعاہدہ کے بعد مکان فروخت کرنے کا حکم


سوال

میرے والد صاحب نے ایک پلاٹ خرید کر اس پر اپنا مکان تعمیر کیا تھا، جس کا کل رقبہ 120 گز ہے۔ بعد میں انہوں نے مجھے اجازت دی کہ میں اس مکان کی بالائی منزل (اپر پورشن) پر اپنے ذاتی سرمائے سے اپنے لیے مکان تعمیر کرلوں۔ چنانچہ میں نے اپنی ذاتی رقم، تقریباً انیس (19) لاکھ روپے، اس بالائی منزل کی تعمیر پر خرچ کی ، جبکہ اصل زمین اور مکان کی ملکیت والد صاحب ہی کی رہی۔

بعد ازاں والد صاحب نے میرے حق میں ایک سب لیز (Sub-Lease) معاہدہ کیا، جس کے مطابق مجھے مذکورہ بالائی منزل میں ننانوے (99) سال تک رہائش و انتفاع کا حق دیا گیا۔ اس معاہدے کی نقل بھی اس درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔

اب والد صاحب پورا مکان فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے مذکورہ بالائی پورشن میں میرا کیا حق ہے؟ کیا سب لیز کے معاہدے کی بنا پر میں اس بالائی پورشن کی مالک شمار ہوں گی؟ نیز کیا والد صاحب میری رضامندی کے بغیر مذکورہ بالائی پورشن کو فروخت کرسکتے ہیں؟ اور اگر مکان فروخت کیا جائے تو صرف بالائی پورشن کی قیمت کے علاوہ، بالائی پورشن کی تعمیر کی وجہ سے نچلے پورشن کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہو، کیا اس میں بھی میرا کوئی حق بنتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ کی فراہم کردہ وضاحت اور منسلکہ سب لیز کے معاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ نے مذکورہ مکان کی بالائی منزل اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کی، جس پر تقریباً انیس (19) لاکھ روپے خرچ ہوئے،  بعد ازاں والد صاحب کی طرف سے مذکورہ بالائی پورشن کے متعلق سائلہ کے حق میں ننانوے (99) سالہ سب لیز کا معاہدہ بھی کیا گیا۔

لہٰذا مذکورہ معاہدے کی رو سے بالائی پورشن سائلہ کی ملکیت میں ہے، اور اسے اس بالائی پورشن میں تصرف، رہائش اور انتفاع کا حق حاصل ہے۔ والد صاحب اصل زمین اور مکان کے مالک ہونے کی حیثیت سے اپنی ملکیت میں تصرف کا حق رکھتے ہیں، لیکن سائلہ کی ملکیت میں شامل بالائی پورشن کو اس کی رضامندی کے بغیر فروخت کرنے کا انہیں حق نہیں۔

لہٰذا اگر والد صاحب پورا مکان فروخت کرنا چاہیں تو سائلہ کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہوگی۔ سائلہ اگر اپنی ملکیت والے بالائی پورشن سے دستبردار ہوکر اسے فروخت کرنے پر راضی ہو تو صرف مذکورہ بالائی پورشن کی باہمی رضامندی سے طے شدہ قیمت اسے ادا کی جائے گی، خواہ وہ اس کی متعین قیمت پر راضی ہو یا اس سے کم رقم پر باہمی رضامندی سے معاملہ طے ہوجائے۔ البتہ نچلے پورشن کی قیمت میں بالائی پورشن کی تعمیر کی وجہ سے جو اضافہ ہوا ہو، اس اضافے کی بنیاد پر سائلہ کو نچلے پورشن کی قیمت میں کسی اضافی حصے کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

پس سائلہ کی رضامندی اور اس کے ملکیتی بالائی پورشن کی قیمت طے کیے بغیر پورے مکان کو اس طرح فروخت کرنا درست نہیں ہوگا کہ سائلہ کا حقِ ملکیت ختم ہوجائے۔

فتاوى هندية  میں ہے :

"رجل قال لغيره: ابن في أرضي هذه لنفسك على أن أتركها في يدك أبدا، أو قال: إلى وقت كذا، فإن لم أتركها فأنا ضامن لك ما تنفق في بنائك ويكون البناء لي، فإذا أخرجه من الأرض يضمن قيمة البناء والغرس ويكون جميع ذلك لصاحب الأرض، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب العارية،الباب الثامن في الاختلاف الواقع في هذا الباب،ج:4،ص:371،ط:دار الفكر)

وفیہ ایضا:

"هو أن يقول أعرتك هذا الشيء أو منحتك هذا الثوب أو هذه الدار أو قال هو لك أو منحتك أو أطعمتك هذه الأرض أو هذه الأرض لك طعمة أو أخدمتك هذا العبد أو حملتك على هذه الدابة إذا لم ينو به الهبة أو داري لك سكنى أوداري لك عمري سكنى، كذا في البدائع. والأصل في هذا أنه إذا أضاف هذه الألفاظ إلى ما يمكن الانتفاع به مع بقاء عينه فهو تمليك للمنفعة دون العين، وإذا أضافه إلى ما لا ينتفع به إلا باستهلاك عينه فهو تمليك للعين فيكون قرضا، هكذا في السراج الوهاج."

(كتاب العارية،الباب الأول في تفسير العارية وركنها وشرائطها،ج:4،ص:363،ط:دار الفكر)

وفیہ ایضا:

"ولو استعار أرضاً ليبني فيها أو ليغرس فيها جاز... فإذا رجع المعير فإن كانت الأرض تنقص بالقلع، فالإجارة إن كانت تنقص بالقلع لزم المعير قيمة البناء والغرس مقلوعاً، وهکذا في العارية."

(كتاب العارية، الباب الثاني في أحكام العارية، ج:4، ص:366،ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101734

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں