بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے ساتھ بطور معاون کام کرنے سے کاروبار کا نفع کس کا شمار ہوگا؟


سوال

میں نے 1992 میں ایک کاروبار شروع کیا تھا۔ اس وقت میرے بچے چھوٹے تھے۔ میں نے اس کاروبار میں محنت کر کے بچوں کو پڑھایا۔ جب بچے بڑے ہوگئے تو میں نے انہیں اپنے ساتھ کام میں بطور معاون  شامل کر لیا۔ کاروبار میں نقصان ہوا تو میں نے اپنا گھر اور زیورات بیچ کر نقصان پورا کیا۔ اس کے بعد بچے میرے ساتھ کام کرتے رہے۔ 2012 تک کاروبار میں شریک رہے، پھر بچوں نے کہا کہ اب ہم کاروبار خود سنبھال لیں گے اور آپ آرام کریں۔ اس کے بعد میں الگ ہو گیا اور مجھے ہر ہفتے چھ ہزار روپے اور علاج معالجے کی سہولت دیتے رہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ چھوٹا بیٹا کاروبار پر حاوی ہے، اسی کی مرضی چلتی ہے۔ نہ مجھے معلوم ہے کہ کتنا نفع یا نقصان ہو رہا ہے، اور نہ ہی باقی دو بیٹوں کو اس کا علم ہے۔ وہ بھی صرف مخصوص رقم لیتے ہیں۔ چھوٹے بیٹے کا کہنا ہے کہ چونکہ میری محنت زیادہ ہے، اس لیے یہ کاروبار میرا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ:

1-مذکورہ کاروبار کس کا شمار ہوگا اور اس میں میری حیثیت کیا ہے، جب کہ بچوں نے کوئی سرمایہ نہیں لگایا بلکہ صرف محنت کی ہے؟

2-اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کس کی ملکیت ہے؟

3-چھوٹے بیٹے کا یہ کہنا کہ "میری محنت زیادہ ہے، لہٰذا یہ کاروبار میرا ہے" کیا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃ ً صحیح ہے  کہ  سائل نے بیٹوں  کو اپنے ساتھ کاروبار میں بطور معاون شامل کیا تھا ،اور آخر میں پورا کاروبار ان کے ہاتھ میں دے دیا ،لیکن یہ دینا بطور ملک اور ہبہ نہیں تھا، بلکہ محض کاروبار  کو چلانے اور تعاون  کے لیے ان کے حوالے کیا تھا تو ایسی صورت میں سائل کے تمام بیٹوں  کی شرعی حیثیت معاون کی ہی برقرار  رہی، مالک کی نہیں بنی، لہذا مذکورہ تمام کاروبار کا اصل مالک سائل ہی ہے، تمام بیٹوں کی حیثیت بدستور  معاون کی ہے، پس سائل جب چاہے کاروبار کا مکمل حساب طلب کر سکتا ہے، اور بیٹوں پر اپنے والد کو کاروبار سے متعلق  تمام تفصیل کی آگاہی دینا، اور ان کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے پیسے لینا کسی بیٹے کے لیے بھی جائز نہیں۔

پس  اس کاروبار  سے اب تک جتنی آمدنی   حاصل ہوئی، منقولہ و غیر منقولہ جو بھی جائیداد   بنائی گئی وہ سب والد صاحب کی ملکیت ہوگی ،بیٹے کا یہ کہنا کہ میری زیادہ محنت  ہے، اس وجہ سے کاروبار میرا ہے شرعاً درست نہیں ہے۔

العقود الدرية في تنقیح الفتاوي الحامدية  ميں ہے:

"(‌سئل) ‌في ‌رجل ‌ساكن ‌في ‌بيت ‌أبيه في جملة عياله وصنعتهما متحدة يعينه بتعاطي أموره ولا يعرف للابن مال سابق فاجتمع مال بكسبه ويريد أن يختص به بدون وجه شرعي فهل جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه ولا شيء له فيه؟

(الجواب) : نعم جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه لا شيء له فيه حيث كان من جملة عياله والمعين له في أموره وأحواله وصنعتهما متحدة ولا يعرف للابن مال سابق؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع كما صرح بذلك في الخلاصة والبزازية ومجمع الفتاوى."

(كتاب الدعوى، ج: 2، ص: 17، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں