بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے ذمے بچوں کے خراجات کب تک لازم ہیں؟ نماز کے متعلق بچوں کو تلقین کرنا، شادی کب کرنی چاہیے؟


سوال

1:بچوں کے اخراجات نان و نفقہ والد کے ذمہ کب تک ہیں؟

2:بچوں کو والد صاحب نماز کی تلقین کرتاہے، اور نماز پڑھنے کا کہتا ہے تو بچے جواب میں کہتے ہیں ہم کسی کود کھانے کےلیے تھوڑی پڑھتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ نماز پڑھنے کی کیا اہمیت ہے؟ اور اس کے کیا فضائل ہیں، اور نہ پڑھنے پر      کیا وعیدیں ہیں؟

3:اسلام میں بچے بچیوں کو کب شادی کرنی چاہیے؟آیا اخراجات کو دیکھنا چاہیے یا نہیں؟  جب کہ بچوں کی عمر شادی کےقابل ہوچکی ہے، اور اس عمر میں اگر بچے بچیاں شادی نہ کریں تو اس کی کیا وعیدیں ہیں؟

جواب

1:اگر بچہ ہے تو بالغ ہونے اور کمانے کے قابل ہوجانے تک، اور اگر بیٹی ہے تو اس کی شادی ہونے تک اخراجات والد پر لازم ہیں۔ 

2: ہر مسلمان کو چاہیے کہ  خود بھی نماز کی پابندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تلقین کرے، قرآن مجید کی  آیت  :﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ﴾ (طھ:132)(ترجمہ:اور آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں، اور خود بھی نماز کا پابند رہیں)  میں گھر والوں کو نماز کا حکم دینے اور اس کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ" جب تمہارے بچے سات سال کے برس کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہوجائیں (تو نماز چھوڑنے پر) انہیں مارو۔" (مظاہر حق)تاہم نماز کی تلقین اور ترغیب کےلیے ایسا پہلو اختیار کیا جائے  جس سے بچپن میں نماز سے محبت اور لگن پیدا ہو، حکمت وبصیرت سے سمجھایاجائے سختی کے بجائے نرمی سے کام لیاجائے۔

نماز کی اہمیت نماز پڑھنے کے فضائل اور ترک  کرنے کے متعلق کئی احادیث وارد ہوئی ہیں۔

چناں چہ حدیث شریف میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نماز چھوڑنا بندہ مؤمن اور کفر کے درمیان (کی دیوار کو ڈھادیتا) ہے۔ 

باجماعت نماز پڑھنے کی اہمیت کا اندازہ اس بات کسے لگایا جاسکتا ہےکہ حضرت ابوہریرہ راوی ہے کہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ (کسی خادم کو) لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور جب لکڑیاں جمع ہوجائیں تو ( عشاء) کےلیے اذان کہنے کاحکم دوں اور جب اذان ہوجائے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کےلیے کسی شخص کو مامور کروں اور پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو بغیر کسی عذر کے نماز کےلیے جماعت میں نہیں آتے اور ان کو اچانک پکڑوں) ایک اور روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلادوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں  میری جان ہے ( جو لوگ نماز کےلیے جماعت میں شریک نہیں ہوتے ان میں سے) اگر کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ (مسجدمیں) گوشت کی فربہ ہڈی بلکہ گائے اور بکری کے دو اچھے کھر مل جائیں گے تو عشاء کی نماز میں حاضر ہوں۔

حضرت ابو ہرہرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا، تم بتاؤ کہ جس کے دروازے کے آگے پانی کی نہر چلتی ہو اور وہ روز مرہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پرمیل کا کوئی شائبہ بھی رہےگا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں! میل بالکل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا (تم سمجھ لو کہ یہی مثال ہے ) پانچوں نمازوں کی کہ اللہ تعالی تمام (صغیرہ گناہوں کو ان نمازوں کے سبب سے اسی طرح مٹادیتا ہے (جس طرح پانی میل کو اتاردیتاہے)۔

3: لڑکا  یا لڑکی جب بالغ ہوجائے تو جلد سے جلد اس کے جوڑ کا رشتہ ڈھونڈ کر اس کا نکاح کردینا چاہیے، بشرط یہ کہ لڑکا اپنی بیوی کا نفقہ دینے پر خود قادر ہو یا کوئی ( والد وغیرہ)  اس کا اور اس کی بیوی کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہو،یہ ذمہ داری نان ونفقہ کی قدرت کے  ساتھ مشروط ہے،البتہ اگر شادی کے ضروری اخراجات اور بعد ازاں بیوی کے نان و نفقہ کی ادائیگی کا انتظام نہ ہو تو جب تک ان اخراجات کا بندوبست نہ ہو جائے، نکاح مؤخر کیا جا سکتا ہے، تاہم شادی کے ضروری اخراجات اور بیوی کے نان و نفقہ اٹھانے پر قدرت ہونے کے باوجود بلا وجہ تاخیر کرنا فتنہ و فساد کا سبب اور شریعت کے مزاج کے خلاف ہے، نیز جس شخص کے پاس شادی کرنے کی استطاعت ہےاوروہ  بیوی کے تمام حقوق ادا کرنے پر قادر بھی ہے، جب کہ اس کی کوئی ایسی مصروفیت  بھی نہیں ہے جو ازدواجی زندگی کے لئے مانع ہویا اس کی وجہ سے معذور ہو، ایسے شخص کا شادی نہ کرنا مسنون عمل سے محروم ہونا ہے۔

سنن ابی داود میں ہے:

"عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((مُرُوا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عَشْر، وفرقوا بينهم في المضاجع)). رواه أحمد وأبو داود، وهو الصحيح."

(‌‌كتاب الصلاة، باب متى يؤمر الغلام بالصلاة، ج:1،ص:367،رقم الحدیث، 495، ط:دارالرسالة العالمیة)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌بين ‌العبد ‌وبين ‌الكفر ترك الصلاة» . رواه مسلم."

(‌‌كتاب الصلاة‌‌‌‌، الفصل الأول، ج:1،  ص:180، رقم الحدیث:569، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

وفیه أيضًا:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال. وفي رواية: لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عرقا سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء . رواه البخاري ولمسلم نحوه."

(كتاب الصلاة، باب الجماعة وفضلها، الفصل الأول، ج: 1 ص: 332ط: المکتب الإسلامي)

وفیه أيضًا:

"وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أرأيتم لو أن نهرا بباب أحدكم يغتسل فيه كل يوم خمسا هل يبقى من درنه شيء؟ قالوا: لا يبقى من درنه شيء. قال: فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا . (متفق عليه)"

(‌‌ كتاب الصلاة، الفصل الأول، ج:1، ص:179، رقم الحدیث:565، ط:المکتب الإسلامي)

سننِ ترمذی میں ہے:

"حدثنا سفيان بن وكيع قال: حدثنا حفص بن غياث، عن الحجاج، عن مكحول، عن أبي الشمال، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أربع من سنن المرسلين: ‌الحياء، والتعطر، والسواك، والنكاح ". وفي الباب عن عثمان، وثوبان، وابن مسعود، وعائشة، وعبد الله بن عمرو، وأبي نجيح، وجابر، وعكاف".

(أبواب النكاح، ‌‌باب ما جاء في فضل التزويج، والحث عليه،ج: ٣، ص: ٣٨٣، الرقم: ١٠٨٠، ط: مصطفى البابي)

"ترجمہ:حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح۔"

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب ‌لا ‌يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الطلاق الباب السابع عشر، الفصل الرابع فی نفقۃ الأولاد، ج:1، ص:560، ط رشيدية)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"‌وقال ‌أبو ‌يوسف: ‌إذا ‌كان ‌قادرا ‌على ‌إيفاء ‌ما ‌يعجل، ويكتسب ما ينفق عليها يوما بيوم - كان كفؤا لها، ولا اعتبار بما زاد على ذلك؛ لأن المال غاد ورائح."

‌‌(كتاب النكاح، فصل الكفاءة في النكاح، ج:3، ص:99، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

تفسیر مظہری میں ہے:

"إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ: رد لما عسى أن يمنع من النكاح يعنى لا يمنعنكم من النكاح الفقر  فان الله متكفل لأرزاق العباد كلهم والمال غاد ورائح، وقيل المراد بالغنى هاهنا القناعة وقيل اجتماع الرزقين رزق الزوج ورزق الزوجة والأول أصح فهو وعد من الله بالإغناءللناكح."

(سورة النور ،  آية :33، ج:6، ص:510، ط:رشيدية)

الدرالمختار میں ہے:

"(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض.نهاية.وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه.بدائع (و) يكون(سنة) مؤكدة في الاصح، فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا (حال الاعتدال) أي القدرة على وطئ ومهر ونفقة، ورجح في النهر وجوبه للمواظبة عليه والانكار على من رغب عنه (ومكروها لخوف الجور) فإن تيقنه حرم ذلك."

(كتاب النكاح، ص:177، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

 فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101851

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں