
میرے ایک دوست نے مجھے تقریباً اکیس ہزار کے کپڑے تحفے میں دیے ہیں۔ اس دوست کے والد کی پرفیوم کی شاپ ہے۔ اس دکان کے سارے معاملات وہ اکیلا دیکھتا ہے، البتہ ملکیت والد کی ہے۔ اسی دکان سے گھر کے اخراجات اور اور اس دوست کے ذاتی اخراجات پورے ہوتے ہیں۔
تاہم والد نے اسے بارہ ہزار ماہانہ جیب خرچ دیا ہوا ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ اس نے یہ کپڑے دکان کے پیسوں سے ہی لیے ہیں۔
تو کیا میرے لیے ان کپڑوں کا استعمال جائز ہے؟ اور اگر نہیں، تو ان سے فائدہ اٹھانے کی کیا صورت بن سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے دوست کو ان کے والد کی طرف سے حاصل ہونے والی آمدنی میں تصرف کا مکمل اختیار ہو، یا اگر والد کو اس ہدیہ کا علم ہو تو انہیں ناگوار نہ گزرے تو ایسی صورت میں آپ کے لیے یہ کپڑے استعمال کرنا جائز ہے۔
اور اگر والد کی طرف سے اس قدر ہدیہ کی اجازت نہیں، نیز اگر انہیں اس بات کا علم ہو تو انہیں یہ ناگوار گزرے گا تو ایسی صورت میں آپ کے لیے یہ کپڑے استعمال کرنا جائز نہیں، اس صورت میں حکمت کے ساتھ یہ کپڑے واپس کردیے جائیں ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، ج:2، ص:889، ط: المکتب الإسلامي)
ترجمہ: ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: خبردار ظلم مت کرنا! جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال (لینا یا استعمال کرنا) اس کی مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔“ (مظاہر حق)
فتاوی ہنديہ ميں ہے:
"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع."
(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر، ج:5، ص:342، ط: دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(باب البیع الفاسد، مطلب فی من ورث مالاً حراماً، ج:5، ص:99، ط: ايچ ايم سعيد)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”سوال: باپ کے مال سے بغیر باپ کی اجازت کے اور بغیر رضامندی کے بالغ لڑکوں کو باپ کا مال استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا: باپ کو ناگوار گزرے تو اجازت نہیں۔“
(باب حقوق الوالدین وغیرھما، ج:19، ص:58، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100564
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن