بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 صفر 1448ھ 01 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ


سوال

ابو اور امی زندہ ہیں، دونوں ساتھ رہتے ہیں، ہم چار بھائی ہیں، ایک بہن ہے،ابو چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ہی، اپنے ہوتے ہوئے ہی پراپرٹی کو تقسیم کر دیں، "تین سال پہلے ایک بیٹے کو مکان بناتے ہوئے اس کا حصہ اس کو دے دیا ہے۔ باقی امی، تین بھائی اور ایک بہن بچتے ہیں۔ ہمارے پاس جو پراپرٹی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:

1-  ایک گھر ہے، جس میں ہم رہ رہے ہیں، جس کی مالیت تقریباً 6 کروڑ کے قریب بنتی ہے۔ 

2-  ایک دکان ہے، جس کی تقریباً 1 کروڑ مالیت ہے۔

3-  دو  پلاٹ ہیں جن کی تقریباً 30 سے 40 لاکھ روپے مالیت بنتی ہے۔

اب  والد صاحب مذکورہ پراپرٹی کو  اس طریقے سے تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں :  چھ کروڑ کا مکان ہے، جو کہ تین منزلہ ہے اس میں گراؤنڈ فلور امی کے نام کرنا چاہتے ہیں اور باقی  گھر ہے  بھائی کے نام کرنا چاہتے ہیں۔  دوسرے کو ایک دکان دینا چاہتے ہیں جو تقریباً 1 کروڑ کی ہے۔  ایک اور بھائی ہے اس کو تقریباً 40 لاکھ روپے کا پلاٹ دینا چاہتے ہیں ،  اور جو بہن ہے اس کو 2 پلاٹ دینا چاہتے ہیں جو 20 سے 30 لاکھ روپے کی پراپرٹی ہے ۔

کیا شرعاً یہ  تقسیم درست ہے؟ اگر نہیں ہے تو رہنمائی کر دیں کہ اس کی شرعی اسلامی اصولوں کے مطابق تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی حیات میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو یہ میراث کی تقسیم نہیں کہلاتی ہے، بلکہ یہ اس شخص کی طرف سے اپنی اولاد کو ”ہبہ“ (گفٹ) ہے۔ 

اولاد کو ”ہبہ“ دینے میں شریعت کا یہ اصول ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے، بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر حصہ دیا جائے، بغیر کسی معقول وجہ کے کسی کو زیادہ اور کسی کو کم حصہ دینا جائز نہیں۔

البتہ  اولاد میں سے کسی ایک کو  کسی معقول وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بہ نسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی شرافت  ودین داری یا غریب ہونے کی بنا پر  یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو  دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد صاحب اگر بغیر کسی وجہ کے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ  حصہ دے رہے ہیں تو  سوال میں ذکر کردہ طریقے کے مطابق تقسیم کرنا درست نہیں، یہ تقسیم غیر منصفانہ کہلائے گی، اور بلاوجہ کمی و بیشی کی وجہ سے سائل کے والد صاحب گناہ گار ہوں گے، البتہ کسی معقول وجہ کی بناء پر ایسی تقسیم کر رہے ہیں تو پھر کوئی حرج نہیں۔

سائل کے والد صاحب کا  اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی  طریقہ یہ ہے کہ   اپنی جائیداد میں سے  اپنے  لیے   جتنا چاہے رکھ لیں؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال  میں سے بیوی کو جتنا دینا چاہیں دے دیں،بہتر ہے کہ آٹھویں حصے سے کم نہ دیں اور باقی اپنی  تمام  اولاد میں برابر تقسیم کردیں، یعنی جتنا بیٹے کو دیں اتنا ہی بیٹی کو دیں،  نہ کسی کو محروم کریں اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کریں۔

حدیث شریف میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»"

(مشکاة المصابیح، ج: 1، ص: 261، باب العطایا، ط: قدیمي)

ترجمہ:”حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔“

(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

رد المحتار  میں ہے:

" أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال». رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى. وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا: يكون آثماً في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلاتنصرف  الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لايعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ".

(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 444، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100435

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں