
ایک شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کرائی، اور اس کے بعد والد اپنی بیٹی کی طلاق لینا چاہتا ہے، جبکہ بیٹی طلاق نہیں لینا چاہتی، اور والد یہ چاہتا ہے کہ بیٹی کو رشتہ داری کے بہانہ سے گھر بلوالیں اور زبردستی اس کی طلاقیں لےلیں، تو اس وجہ سے میاں بیوی دونوں بیوی کے والد سے قطع تعلق کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اگر قطع تعلق کرلیں تو کیا دونوں میاں بیوی قطع تعلق والی وعید میں تو داخل نہیں ہوں گے؟
نوٹ: لڑکی کا والد ذاتی وجوہات کی بناء پر طلاق دلوانا چاہتا ہے، لڑکا اور لڑکی دونوں خوش ہیں، اور لڑکا لڑکی کے تمام حقوق ادا کرتا ہے۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی بہت تاکید کی ہے اور اُن کا ہر جائز حکم پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر وہ کسی ایسی بات کا مطالبہ کریں جس سے کسی کی حق تلفی ہوتی ہو یا اُسے پورا کرنے کے نتیجے میں کسی فرض یا واجب کا ترک لازم آتا ہو یا ناجائز کام کا ارتکاب کرنا پڑے، تو ایسے امور میں والدین کا حکم پورا کرنا نہ صرف یہ کہ غیر ضروری ہے، بلکہ اس کا ترک ضروری ہے ، ایسی صورت میں احترام اور ادب کے ساتھ والدین کو سمجھانا چاہیے کہ یہ حکم خلافِ شریعت ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا شرعًا جائز نہیں ہے، اگر خود سمجھانا ممکن نہ ہو تو خاندان کے بڑوں سے بات کرائی جائے۔
صورت مسئولہ میں بیٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے والد کو حکمت و بصیرت سے سمجھانے کی کوشش کرے،اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرکے انہیں راضی کرلے،اور انہیں بتائے کہ بغیر کسی معقول و معتبر وجہ کے طلاق لینا بہت بری بات ہے، اوربتلائے کہ طلاق اللہ کے ہاں جائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے، اور شدید مجبوری کے بغیر طلاق کو اختیار کرنا مذموم ہے، اگر پھربھی والدنہ مانتے ہوں توبیٹی کے لیے طلاق لینا لازم نہیں ہوگا، اور طلاق نہ لے کر بیٹی اپنے والد کی نافرمان نہیں ہوگی،بلکہ والد بلاوجہ بیٹی سے اس مطالبہ پر گناہگار ہوگا۔
لیکن بیٹی اور داماد کے لیے کسی صورت میں والد سے قطع تعلق کرنا جائز نہ ہوگا، بیٹی پر لازم ہوگا کہ اس کے باوجود اپنے والد سے حسن معاشرت سے پیش آئے، اور ادب و احترام میں کوئی کمی نہ کرے۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’حدیثِ پاک کا منشا یہ ہے کہ بیٹے کو والدین کی اطاعت و فرماں برداری میں سخت سے سخت آزمائش کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے، حتیٰ کہ بیوی بچوں سے جدا ہونے اور گھر بار چھوڑنے کے لیے بھی۔ اس کے ساتھ ماں باپ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بے انصافی اور بے جا ضد سے کام نہ لیں۔ اگر والدین اپنی اس ذمہ داری کو محسوس نہ کریں اور صریح ظلم پر اُتر آئیں تو ان کی اطاعت واجب نہ ہوگی، بلکہ جائز بھی نہ ہوگی۔ آپ کے سوال کی یہی صورت ہے اور حدیثِ پاک اس صورت سے متعلق نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر والدین حق پر ہوں تو والدین کی اطاعت واجب ہے، اور اگر بیوی حق پر ہو تو والدین کی اطاعت ظلم ہے۔ اور اسلام جس طرح والدین کی نافرمانی کو برداشت نہیں کرسکتا، اسی طرح ان کے حکم سے کسی پر ظلم کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔‘‘
(تنسیخ نکاح، ج: 6، ص: 682، ط: مکتبہ لدھیانوی)
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"وَقَوْلُهُ:﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُمَا﴾أَيْ: إِنْ حَرَصَا عَلَيْكَ كُلَّ الْحِرْصِ عَلَى أَنْ تُتَابِعَهُمَا عَلَى دِينِهِمَا، فَلَا تَقْبَلْ مِنْهُمَا ذَلِكَ، وَلَا يمنعنَّك ذَلِكَ مِنْ أَنْ تُصَاحِبَهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا، أَيْ: مُحْسِنًا إِلَيْهِمَا."
(سورۃ لقمان، ج: 6، ص: 301، ط: دار الکتب العلمیة)
بخاری شریف میں ہے:
"عن ابن عمر رضي الله عنهماعن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة)."
(کتاب الجہاد، باب السمع و الطاعة للامام، ج: 2، ص: 1392، البشرٰی)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102176
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن