
ایک آدمی نےاپنی حیات ہی میں اپنی کل زمین اپنی دوبیٹیوں کودےدی تھی ،پھرکچھ عرصہ بعداس شخص کاانتقال ہوگیا،مرحوم کاکوئی بیٹانہیں تھا،مرحوم کےبھتیجےیہ اعتراض کررہےہیں کہ ہمارےچچاکی صرف دوبیٹیاں تھیں ،بیٹاتوتھانہیں ،لہذاہمیں مرحوم کی زمین میں سےحصہ دو۔
اب سوال یہ ہےکہ کیامرحوم کےبھتیجوں کوزمین کےمطالبےکاحق ہے؟
وضاحت:مرحوم نےزمین اپنی بیٹیوں کےنام کرکےان میں تقسیم بھی کردی تھی اورقبضہ اورتصرف بھی ان کےحوالےکردیاتھا۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعتاًمذکورہ شخص نے زندگی ہی میں اپنی زمین دونوں بیٹیوں میں تقسیم کردی تھی اورقبضہ سمیت ان کےتصرف میں بھی دےدی تھی تووہ زمین اس شخص کی ملکیت سےنکل کردونوں بیٹیوں کی ملکیت میں داخل ہوچکی ہے۔لہذااب اس میں میراث جاری نہیں ہوگی اورمرحوم کےبھتیجوں کااس میں کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ مرحوم کے انتقال کے وقت مرحوم کے صرف بھتیجے تھے مرحوم کے بھائی، بہن نہیں تھے، تو ایسی صورت ان بیٹیوں کے ساتھ مرحوم کے بھتیجے بھی شرعاً وارث تھے، اور چوں کہ مرحوم کا اپنی کل زمین صرف بیٹیوں کو دے دینا اور بھتیجوں کو محروم کردینا شرعاً جائز نہیں تھا، مرحوم کے حق میں توبہ واستغفار ضروری ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض."
(كتاب الهبة، فصل في حكم الهبة، ج: 6، ص: 127، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ أیضاً:
"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث."
(کتاب الحدود، فصل في بيان صفات الحدود، ج: 7 ص: 57، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100135
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن