
ہمارے والد کی زمین ہے ، والد کا کہنا ہےکہ:’’ تم دونوں بھائی میری اس زمین پر مکان تعمیر کروالو’’، جب کہ میرے علاوہ میرے والد کی اور اولاد بھی ہے، اگر میں اپنے مال سے گھر کی تعمیر کرواتا ہوں تو اُس بارے میں شریعت کےکیا احکامات ہیں؟ اور وراثت کے احکام کیا ہوں گے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر والد نے مذکورہ زمین پر سائل کو صرف مکان تعمیر کروانے کی اجازت دی ہے تو ایسی صورت میں وہ مکان والد ہی کی ملکیت ہوگا،جو والد کے انتقال کے بعد اُن کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا اور سائل نے جو خرچہ کیا ہے اگر وہ واپس لینے کی کی بات ہوئی ہے، یا قرض کے طور پر تعمیر پر رقم لگائی ہے، تو سائل کو تعمیر پر جتنی رقم خرچ ہوئی ہے، اتنی رقم ملے گی، تاہم اگر والدسائل کو مذکورہ زمین کا مکمل قبضہ وتصرف دےکر مالک بنادیں، اور پھر سائل مکان تعمیر کرے تو ایسی صورت میں وہ مکان سائل ہی کی ملکیت ہوگا۔
"رد المحتار"میں ہے:
"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنّفقة دين عليها) لصحّة أمرها ... (قوله: والنّفقة دين عليها) لأنّه غير مقطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحّة أمرها، فصار كالمأمور بقضاء الدين زيلعي، وظاهره وإن لم يشترط الرّجوع".
(رد المحتار، كتاب الخنثى، مسائل شتى، 6/747، ط: سعید)
"الدر المختار"میں ہے:
"(وتتمّ) الهبة (بالقبض) الكامل".
(الدر المختار، كتاب الهبة، 5/690، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101485
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن