
ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں، والد صاحب کے انتقال کو تقریباً ایک سال کا عرصہ ہو گیا ہے، ان کی زندگی میں انہوں نے کچھ رقم بڑے بیٹے کو دی اور کچھ بیٹی کو، جو بھی جس کا حصہ بنا، ایک چھوٹے بیٹے (جس کی عمر والد کے انتقال کے وقت تقریباً 47 سال تھی) کا حصہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں رکھا ہوا تھا، کیونکہ وہ بیٹا باہر رہتا ہے، والد صاحب نے کئی بار اس بیٹے سے کہا کہ اپنا حصہ آ کر لے لو، اس نے کہا: اپنے پاس رکھیں، میں لے لوں گا، اب جب اس بیچ والد صاحب کا انتقال ہو گیا تو جو رقم بینک میں رکھی ہے اس پر وراثت کا قانون لگے گا؟ یا والد صاحب کے کہے ہوئے کی حیثیت کے مطابق پورا پیسہ اس بیٹے کو دے دیا جائے گا؟
ایک بیٹی اور ایک بیٹے نے اپنے حصے کی رقم پر والد صاحب کی زندگی میں ہی قبضہ کر لیا تھا، اب چھوٹے بیٹے کا کہنا ہے کہ یہ رقم میری والد صاحب کے پاس امانت تھی وہ اس کی نگران تھے۔
واضح رہے کہ زندگی میں جو چیز والد اپنی اولاد کو دیتا ہے اس کی حیثیت ہبہ کی ہوتی ہے اور ہبہ میں قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اگر ہبہ پر قبضہ نہ کیا جائے تو ہبہ کرنے والے کی ملکیت اس سے زائل نہیں ہوتی۔
اب صورتِ مسئولہ میں جب والد صاحب نے کچھ رقم چھوٹے بیٹے کو دینے کا ارادہ کیا، لیکن چھوٹے بیٹے نے اس رقم پر قبضہ نہیں کیا تو یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا اور اس رقم کے مالک بدستور والد ہی رہے، اب اصولی طور پر ان کے انتقال کے بعد یہ رقم والد کے ترکہ میں شامل ہو کر قانونِ وراثت کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم ہو گی، لیکن اگر بقیہ دو بھائی بہن والد صاحب مرحوم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہ رقم چھوٹے بھائی کو دے دیں تو ثواب کا کام اور احسان ہو گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. "
(کتاب الھبة ، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز ، ج: 4، صفحه : 377 ، ط : دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101856
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن