
میاں بیوی میں ( طلاق یا خلع کی صورت میں )علیحدگی کے بعد بچے کس کے پاس رہیں گے، جب کہ بچوں کی عمریں نو سال سے زیادہ ہوں اور یاد رہے کہ شوہر چند بری عادات میں مبتلا ہے جیسا کہ نشہ کرنا اور دوسری عورتوں سے تعلقات وغیرہ۔
واضح رہے کہ زوجین کے درمیان (خلع یا طلاق کی صورت میں)جدائی ہونے کے بعد سات سال سے کم عمر بچہ، اور نو سال سے کم عمر بچی کی پرورش اور حضانت کا حق اصلاً ماں کو حاصل ہے اور اس كے تمام اخراجات والد کے ذمہ ہیں، اسی لیے شریعت مطہرہ نے لڑکے کو سات سال اور لڑکی کو نو سال کی عمر تک پرورش کی خاطر ماں کی تربیت میں رکھنے کا حکم دیا ہےاور مذکورہ عمر کی تکمیل کے بعد تربیت کی ذمہ داری والد کی قرار دی ہے،اور پھر والد کو بچے اپنی تربیت میں لینے کا حق دیا ہے، البتہ اگر والد خود اپنا یہ حق چھوڑنے پر تیار ہو، اور بچوں کو ان کی ماں کے سپرد کرنے پر راضی ہو، تو اس کی بھی اجازت ہے۔
حقِ پرورش کی حق داری کے لیے فقہاء نے جو شرائط لکھی ہیں اُن میں امانت فی الدین بھی ہے یعنی حقِ پرورش اس کو حاصل ہو گا جو دین دار ہو، اگر کوئی فاسق ہو تو اس کا حقِ پرورش ساقط ہو جائے گا، جیسا كه اگر باپ ایسا فاسق ہے کہ اس کے فسق کا ضرر بچوں پر پڑنے اور ان کی تربیت خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو اس کا حقِِ تربیت ساقط ہو جائےگا اور ایسی صورت میں پھر بچے کا دادا، وہ نہ ہو تو بچے کے چچا کو تربیت کا حق حاصل ہوگا، کیوں کہ حقِ تربیت کےثبوت کےلیے دین دار ہونا شرط ہے اور اگر والد ایسا فاسق نہیں ہے کہ جس کے فسق کا اثر بچوں پر پڑ سکتا ہے، تو پھر اسے تربیت کا حق حاصل ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں والد کا نشہ کرنا اور دوسری عورتوں سے تعلقات بنانا وغیرہ موجبِ فسق ہے، لہٰذا والد کے فاسق ہونے کی وجہ سے اس کا تربیت کا حق ساقط ہوگیا اور اب بچے کے دادا کو اور اگر وہ نہ ہو تو بچوں کے چچا کو حق تربیت حاصل ہوگا،جب تک والد توبہ تائب نہ ہوجائےاور اگر والد، دادا یا چچا خود اپنا یہ حق چھوڑنے پر تیار ہوں اور بچوں کو ان کی ماں کے سپرد کرنے پر راضی ہوں تو ایسی صورت میں ماں بچوں کو اپنی تربیت میں رکھ سکتی ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا حق لغير المحرم في حضانة الجارية ولا للعصبة الفاسق على الصغيرة كذا في الكفاية".
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:542، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر".
(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:612، ط: سعيد)
وفیہ أیضاً:
"(أو متزوجة بغير محرم) الصغير.
(قوله: بغير محرم) أي من جهة الرحم فلو كان محرما غير رحم كالعم رضاعا، أو رحما من النسب محرما من الرضاع كابن عمه نسبا هو عمه رضاعا فهو كالأجنبي".
(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:557، ط: سعيد)
فتح القدیر میں ہے:
"وأولاهم أقربهم تعصيبا لأن الولاية عليه بالقرب، ولذلك إذا استغنى عن الحضانة كان الأولى بحفظه أقربهم تعصيبا، وقد عرف في موضعه: أي في الفرائض، وأولى العصبات الأب ثم الجد أبو الأب وإن علا، ثم الأخ الشقيق، ثم الأب لأب، ثم ابن الأخ الشقيق، ثم ابن الأخ لأب، وكذا كل من سفل من أولادهم، ثم العم شقيق لأب، ثم الأب. فأما أولاد الأعمام فإنه يدفع إليهم الغلام فيبدأ بابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب، ولا تدفع الصغيرة إليهم لأنهم غير محارم وإنما يدفع إليهم الغلام، وإذا لم يكن للصغيرة عصبة تدفع إلى الأخ لأم ثم إلى ولده ثم إلى العم لأم، ثم إلى الخال لأب وأم، ثم لأب ثم لأم، لأن لهؤلاء ولاية عند أبي حنيفة رحمه الله في النكاح. ويدفع الذكر إلى مولى العتاقة لأنه آخر العصبات، ولا تدفع الأنثى إليه.ولو كان في المحارم من الإخوة والأعمام من لا يؤمن على صبي وصبية لفسقه ليس له حق في الإمساك، الكل من الكافي. وإذا اجتمع مستحقو الحضانة في درجة كإخوة وأعمام فأصلحهم أولى، فإن تساووا فأسنهم".
(كتاب الطلاق، باب الولد من أحق به، ج:4، ص:371، ط: دار الفكر)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
ما يشترط فيمن يستحق الحضانة:
14 - الحضانة من الولايات والغرض منها صيانة المحضون ورعايته، وهذا لا يتأتى إلا إذا كان الحاضن أهلا لذلك، ولهذا يشترط الفقهاء شروطا خاصة لا تثبت الحضانة إلا لمن توفرت فيه، وهي أنواع ثلاثة: شروط عامة في النساء والرجال، وشروط خاصة بالنساء، وشروط خاصة بالرجال.......الأمانة في الدين، فلا حضانة لفاسق، لأن الفاسق لا يؤتمن، والمراد: الفسق الذي يضيع المحضون به، كالاشتهار بالشرب، والسرقة، والزنى واللهو المحرم......قال ابن عابدين: الحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها، وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل الولد فجور أمه فينزع منها".
(حرف الحاء، حضانة، ج:17، ص:305، ط: دار السلاسل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100330
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن