
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکی اور اس کا خالہ زاد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور برائی، بے حیائی اور فتنوں کے خوف سے ان سے بچنے کے لیے، نیز اس اندیشے سے کہ لڑکی کے گھر والے نہیں مانیں گے، لڑکی چھپ کر اپنے خالہ زاد کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے، اور پھر بعد میں اگر گھر والے مان جائیں تو وہ اپنے والد کو ولی مقرر کر کے گھر والوں کے سامنے دوبارہ اسی خالہ زاد سے نکاح کرتی ہے، تو کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا یا نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکا اور لڑکی دونوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے اولیاء اور گھر والوں کی اجازت اور ان کی رضامندی سے نکاح کریں؛ کیونکہ ولی کی اجازت و رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعاً و اخلاقاً انتہائی ناپسندیدہ ہے، اگرچہ عاقل و بالغ لڑکے یا لڑکی کا اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لینے سے شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے؛ کیونکہ شریعت نے عاقل و بالغ لڑکے اور لڑکی کو اپنی رائے کے استعمال کا حق دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ خاندان کی عزت و وقار کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ بہر حال لڑکا اور لڑکی کا اپنے گھر والوں کو لاعلم رکھ کر نکاح کرنا ناپسندیدہ عمل ہے، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم سوال کے مطابق اگر کوئی عاقلہ بالغہ لڑکی گناہ اور فتنوں کے بچنے کی خاطر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو شرعی طور پر نکاح منعقد ہوجائے گا، اور محض ولی کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے وہ گناہ گار نہیں ہوگی۔ البتہ ایسی صورت میں دیکھا جائے گا کہ اس نے نکاح کفو میں کیا ہے یا غیرِ کفو میں، چنانچہ اگر اس نے نکاح غیر کفو میں کیا ہو یعنی لڑکا دین، دیانت، مال، حسب و نسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑکی کے ہم پلہ نہ ہو، تو اولاد ہونے سے پہلے پہلے لڑکی کے اولیاء کو عدالت سے رجوع کر کے اس نکاح کو فسخ کرانے کا اختیار ہوگا، لیکن اگر نکاح کفو میں کیا ہو یعنی لڑکا مذکورہ چیزوں میں لڑکی کے ہم پلہ ہو، تو پھر لڑکی کے اولیاء کو اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."
(کتاب النکاح، فصل ولاية الندب والاستحباب في النکاح، ج:2، ص:247، ط:ايج ايم سعید)
وفيه أيضاً:
"فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء؛ لأنهم ينتفعون بذلك ألا ترى أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن، ويتعيرون بدناءة نسبه، فيتضررون بذلك، فكان لهم أن يدفعوا الضرر عن أنفسهم بالاعتراض..... ولو كان التزويج برضاهم يلزم حتى لا يكون لهم حق الاعتراض؛ لأن التزويج من المرأة تصرف من الأهل في محل هو خالص حقها، وهو نفسها، وامتناع اللزوم كان لحقهم المتعلق بالكفاءة، فإذا رضوا، فقد أسقطوا حق أنفسهم، وهم من أهل الإسقاط، والمحل قابل للسقوط، فيسقط."
(كتاب النكاح، فصل بيان ما تعتبر فيه الكفاءة، ج:2، ص:318/317، ط:ايج ايم سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(فنفذ نكاح حرة مكلفة لا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبةً) ولو غير محرم كابن عم في الأصح، خانية. وخرج ذوو الأرحام والأم وللقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه).
وفي الرد: يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة بحر وللخروج من خلاف الشافعي في البكر، وهذه في الحقيقة ولاية وكالة."
(كتاب النكاح، باب الولي، ج:3، ص:55، ط:ايج ايم سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال، كذا في البدائع. فإذا تزوجت المرأة رجلا خيرا منها؛ فليس للولي أن يفرق بينهما فإن الولي لا يتعير بأن يكون تحت الرجل من لا يكافئوه، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي. الكفاءة تعتبر في أشياء (منها النسب).... (ومنها إسلام الآباء).... (ومنها الحرية).... (ومنها الكفاءة في المال).... (ومنها الديانة).... (ومنها الحرفة)."
(كتاب النكاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:291/290، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100550
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن