
اگر کوئی شخص کراچی میں انتقال ہو جائے اور ورثاء اس کو گاؤں میں منتقل کر رہے ہوں، اور کراچی میں اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، لیکن کراچی میں جنازہ کے وقت اس کے وارث موجود نہ ہوں، تو کیا یہ جنازہ پڑھنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں میت کی نمازِ جنازہ ولی کی عدمِ موجودگی اور اجازت کے بغیر پڑھی گئی ہو تو ایسی صورت میں ولی گاؤں میں دوبارہ نمازِ جنازہ کا اعادہ کر سکتا ہے، لیکن اگر نمازِ جنازہ ولی کی اجازت سے پڑھی گئی ہو، تو پھر اس کا اعادہ درست نہیں ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية."
(كتاب الصلاة،الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على الميت، 1/ 164، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 222، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101619
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن