بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ولی کا بالغہ لڑکی کی اجازت کے بغیر مہر کم کرنے کا حکم


سوال

 اگر ایک بالغ لڑکی کا نکاح اس کے والد (جو کہ اس کا شرعی ولی ہے) نے کیا ہو، اور مہر بھی خود طے کر لیا ہو۔ لیکن بعد میں لڑکی کی اجازت یا رضامندی کے بغیر وہ مہر میں کمی کر دے، تو: 1. کیا شرعی طور پر لڑکی کے والد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مہر میں کمی کرے؟ 2. کیا ایسی صورت میں کم کیا گیا مہر ہی معتبر ہوگا؟ 3. اگر لڑکی کو بعد میں اس پر اعتراض ہو تو کیا شرعی طور پر وہ اصل مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟ 4. کیا یہ نکاح درست ہوگا؟ 5. اس پر احناف کا کیا موقف ہے؟ اور اگر فتاویٰ محمودیہ یا ہدایہ وغیرہ سے کوئی حوالہ ہو تو ضرور ذکر فرمائیں۔ برائے مہربانی قرآن، حدیث، فقہ حنفی اور معتبر کتب کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ 

جواب

1۔2واضح رہے کہ مہر بیوی کا شرعی حق ہے۔ نکاح کے وقت مہر طے ہوجانے کے بعد بیوی اگر چاہے تو مہر میں کمی کرسکتی ہے اور چاہے تو پورا مہر معاف بھی کرسکتی ہے۔ لیکن ولی (والد) کو بالغہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر مہر میں کمی کرنا جائز نہیں، اور اگر ولی نے اس کی رضامندی کے بغیر مہر میں کمی کردی تو اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ جتنا مہر عقد کے وقت لازم ہوا تھا وہی لازم رہے گا۔

3۔ اگر لڑکی کو مہر کی کمی کا علم ہی نہ تھا یا اس نے مہر میں کمی پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی تو شرعاً اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ وہی مکمل مہر وصول کرے جو عقد کے وقت طے ہوا تھا۔

4۔ اگر ولی نے مہر میں کمی کی ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، نکاح صحیح اور برقرار رہے گا۔ کیونکہ اگر عقد کے وقت مہر کا ذکر بالکل نہ بھی کیا جائے تو بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے، البتہ اس صورت میں مہرِ مثل لازم ہوتا ہے۔ لہٰذا مہر میں کمی کی صورت میں بھی نکاح منعقد اور برقرار رہے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌وصح ‌حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا،

(قوله ‌وصح ‌حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها. ف."

(باب المهر،‌‌مطلب في حط المهر والإبراء منه،ج:3،ص:113،ط:سعيد)

النہر الفائق شرح کنزالدقائق میں ہے:

"(‌وصح ‌حطها) أي: إسقاطها المهر كلا أو بعضا قبل أو لا...«قيد بحيطها لأن حط أبيها لو بالغة يتوقف على إجازتها ولو صغيرة بطل."

(‌‌باب المهر،ج:2،ص:236،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن ‌حطت ‌عن ‌مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ومن أن تكون مريضة مرض الموت هكذا في البحر الرائق."

 

(‌‌كتاب النكاح،‌‌الباب السابع في المهر،ج:1،ص: 313،ط:دار الفكر بيروت)

البنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:

"ويصح النكاح ‌وإن ‌لم ‌يسم ‌فيه ‌مهرا،«لأن النكاح عقد انضمام وازدواج لغة، فيتم بالزوجين، ثم المهر واجب شرعا، إبانة لشرف المحل، فلا يحتاج إلى ذكره لصحة النكاح، وكذا إذا تزوجها بشرط أن لا مهر لها لما بينا."

(‌‌كتاب النكاح،‌‌باب المهر،ج:5،ص:131،ط: دار الكتب العلمية )

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں