3۔ اگر لڑکی کو مہر کی کمی کا علم ہی نہ تھا یا اس نے مہر میں کمی پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی تو شرعاً اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ وہی مکمل مہر وصول کرے جو عقد کے وقت طے ہوا تھا۔
4۔ اگر ولی نے مہر میں کمی کی ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، نکاح صحیح اور برقرار رہے گا۔ کیونکہ اگر عقد کے وقت مہر کا ذکر بالکل نہ بھی کیا جائے تو بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے، البتہ اس صورت میں مہرِ مثل لازم ہوتا ہے۔ لہٰذا مہر میں کمی کی صورت میں بھی نکاح منعقد اور برقرار رہے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا،
(قوله وصح حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها. ف."
(باب المهر،مطلب في حط المهر والإبراء منه،ج:3،ص:113،ط:سعيد)
النہر الفائق شرح کنزالدقائق میں ہے:
"(وصح حطها) أي: إسقاطها المهر كلا أو بعضا قبل أو لا...«قيد بحيطها لأن حط أبيها لو بالغة يتوقف على إجازتها ولو صغيرة بطل."
(باب المهر،ج:2،ص:236،ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن حطت عن مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ومن أن تكون مريضة مرض الموت هكذا في البحر الرائق."
(كتاب النكاح،الباب السابع في المهر،ج:1،ص: 313،ط:دار الفكر بيروت)
البنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:
"ويصح النكاح وإن لم يسم فيه مهرا،«لأن النكاح عقد انضمام وازدواج لغة، فيتم بالزوجين، ثم المهر واجب شرعا، إبانة لشرف المحل، فلا يحتاج إلى ذكره لصحة النكاح، وكذا إذا تزوجها بشرط أن لا مهر لها لما بينا."
(كتاب النكاح،باب المهر،ج:5،ص:131،ط: دار الكتب العلمية )
فقط والله اعلم