
1۔ والد صاحب نے کافی وقت پہلے، جب والدہ حیات تھیں، غصے میں والدہ کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ پھر اس کے کافی عرصے بعد والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کا ترکہ موجود ہے۔ اب اس صورت میں والدہ کے ترکے میں سے والد صاحب کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
2۔میں نے ایک فلیٹ کچھ ذاتی رقم اور بینک اور والدہ سے قرض لے کر خریداتھا،بینک کی رقم اتارچکا ہوں، اب اگر میں فلیٹ فروخت کرتا ہوں تو بینک کے قرض اور والدہ کی رقم ادا کرنے کے بعد جو اضافی رقم بچے گی، کیا اس اضافی رقم کو استعمال کرنا میرے لیے شرعاً حلال ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ یہ فلیٹ ہم نے اپنی رقم اور بینک کی رقم ملا کر خریدا تھا۔
3۔ جب والدہ مرحومہ ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں تو اس دوران ہم دو بھائیوں نے اپنی ذاتی رقم سےان کے علاج پر خرچ کیا تھا۔ کیا یہ اخراجات والدہ کی دی گئی تیس لاکھ روپے کی رقم سے منہا کرنا درست ہوگا یا نہیں؟ اگر درست ہے تو کس نسبت سے حصے تقسیم ہوں گے؟
1۔ سائل کے والد صاحب نےاگر واقعۃ اپنی اہلیہ (سائل کی والدہ ) تین مرتبہ طلاق دے دی تھی، جس کے کافی عرصے بعد سائل کی والدہ کا انتقال ہوا۔تو اس صورت میں سائل کی مرحومہ والدہ کا ترکہ مرحومہ کی اولاد ودیگر ورثاءمیں تقسیم ہوگا،جب کہ سائل کے والد مطلقہ بیوی کے وارث نہیں بنیں گے۔
2۔مذکورہ فلیٹ کا مالک شرعاًسائل ہی ہے،قرض رقم ادا کرنے کے بعد مابقیہ رقم اپنے استعمال میں لانا جائز ہوگا۔
3۔ اگر مذکورہ دونوں بیٹوں نے والدہ کی بیماری میں قرض کی صراحت کے ساتھ رقم خرچ کی تھی کہ یہ رقم والدہ کے ترکہ سےوصول کریں گے،اس صورت میں والدہ کے ترکہ کی ورثاء میں تقسیم سے قبل مذکورہ اخراجات منہا کرکے دونوں بیٹوں نے جتنی رقم خرچ کی ہو،اتنی رقم ہرایک کو دی جائے گی،اس کے بعد بقیہ ترکہ کی تقسیم ہوگی،البتہ علاج پر خرچ کرتے وقت اگر قرض کی صراحت یا واپسی کا معاہدہ نہیں کیا گیا تھا،تو اس صورت میں اب مذکورہ رقم کےمطالبہ کا حق نہیں ہوگا،مذکورہ رقم بیٹوں کی طرف سے اپنی والدہ پر تبرع و احسان ہوگی،جس کا انہیں ثواب ملے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"منها: الإرث عند الموت، و جملة الكلام فيه أن المعتدة لاتخلو إما إن كانت من طلاق رجعي، و إما إن كانت من طلاق بائن أو ثلاث، و الحال لايخلو إما إن كانت حال الصحة و إما إن كانت حال المرض، فإن كانت العدة من طلاق رجعي فمات أحد الزوجين قبل انقضاء العدة و رثه الآخر بلا خلاف، سواء كان الطلاق في حال المرض أو في حال الصحة؛ لأنّ الطلاق الرجعي منه لايزيل النكاح؛ فكانت الزوجية بعد الطلاق قبل انقضاء العدة قائمة من وجه و النكاح القائم من كل وجه سبب لاستحقاق الإرث من الجانبين، كما لو مات أحدهما قبل الطلاق، و سواء كان الطلاق بغير رضاها أو برضاها، فإن ما رضيت به ليس بسبب لبطلان النكاح، حتى يكون رضًا ببطلان حقها في الميراث، و سواء كانت المرأة حرّةً مسلمةً وقت الطلاق أو مملوكةً أو كتابيةً ثم أعتقت أو أسلمت في العدة؛ لأنّ النكاح بعد الطلاق قائم من كلّ وجه ما دامت العدة قائمةً و أنه سبب لاستحقاق الإرث.وإن كانت من طلاق بائن أو ثلاث فإن كان ذلك في حال الصحة فمات أحدهما لم يرثه صاحبه سواء كان الطلاق برضاها أو بغير رضاها ، وإن كان في حال المرض فإن كان برضاها لاترث بالإجماع، و إن كان بغير رضاها فإنها ترث من زوجها عندنا."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فی احکام العدۃ، ط: دارالکتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأنّ الميراث لا بدّ أن يكون لنسب أو سبب و هو الزوجية و العتق و الزوجية تنقطع بالبينونة."
(کتاب الطلاق ، باب طلاق المریض،ج:3،ص:384،ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"اكتسب حرامًا و اشترى به أو بالدراهم المغصوبة شيئًا، قال الكرخي: إن نقد قبل البيع تصدق بالربح وإلا لا، و هذا قياس، و قال أبو بكر: كلاهما سواء و لايطيب له، و كذا لو اشترى و لم يقل بهذه الدراهم و أعطى من الدراهم دفع ماله مضاربة لرجل جاهل جاز أخذ ربحه ما لم يعلم أنه اكتسب الحرام.
(قوله: اكتسب حرامًا إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالًا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ."
(کتاب البیوع :باب المتفرقات ج ، 5 ص : 235،ط:ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ثم بالدين و أنه لايخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض، أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض، فإن كان الكل ديون الصحة أو ديون المرض فالكل سواء لايقدم البعض على البعض، و إن كان البعض دين الصحة و البعض دين المرض يقدم دين الصحة إذا كان دين المرض ثبت بإقرار المريض، وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو و دين الصحة سواء، كذا في المحيط."
(كتاب الفرائض،ج:6،ص:497، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100663
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن