
ہمارے والد صاحب زندگی میں اپنی جائیدادتقسیم کرنا چاہتے ہیں،کس طرح تقسیم کریں؟ راہ نمائی فرمائیں ،جب کہ ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں،ہماری والدہ بھی حیات ہیں۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد صاحب جب تک حیات ہیں، اس وقت تک ان پر اپنی تمام جائیداد بیوی اور بچوں میں تقسیم کرنا شرعاًلازم نہیں ،سائل کے والد صاحب اپنی تمام جائیداد کےتنہا مالک ہیں،بیوی بچوں میں سے کسی کا اس میں کوئی حق نہیں، اولاد یا بیوی میں سے کسی کو تقسیم جائیداد کے مطالبہ کا شرعاًحق نہیں،زندگی میں جائیداد تقسیم نہ کرنے کی صورت میں والد پر کوئی گناہ بھی نہیں،لہذا بہتر یہی ہےکہ جب تک وہ حیات ہیں،جائیداد تقسیم نہ کریں،البتہ اگر سائل کے والد صاحب برضاوخوشی ،کسی جبر واکراہ کے بغیر اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لیے جتنا چاہےحصہ رکھ لیں تاکہ بوقت ضرورت کسی کی محتاجی نہ ہو،پھر بیوی کےلیے حصہ مختص کریں ،جو کل کے آٹھویں حصہ سے کم نہ ہو، اس کے بعد جو کچھ بچے وہ تمام اولاد میں بیٹے بیٹیوں میں برابر تقسیم کردیں ،کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دینے کا انہیں اختیار نہیں ہوگا،البتہ اولاد میں سے اگر کوئی زیادہ ضرورت مندیا زیادہ خدمت گزار ہوتو اسے دیگر کی بنسبت کچھ زیادہ دینے کی اجازت ہوگی،تاہم اولاد میں سے کسی کومحروم کرنا جائز نہیں ہوگا،نیز ہرایک کا حصہ متعین کرکے اس کو مالکانہ طورپر دینا اسے مکمل تصرف کا اختیار دینا بھی ضروری ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."
(كتاب الهبة ، الباب السادس فى الهبة للصغير، ج:4، ص:391، ط: مكتبه رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101545
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن