بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کی طرف سے اولاد کو سونا ہدیہ کرنا اور اس پر زکات کا حکم


سوال

اگر والدین اپنے بالغ بچوں کو سونا دیں، اور وہ سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو،اور بچے کچھ کماتے بھی نہ ہوں اور فی الحال پڑھ رہے ہوں، ان کے پاس بالکل بھی جمع پونجی نہ ہو، تو کیا ان پر زکات فرض ہوگی؟اگر زکات فرض ہوگی تو کس کو دینی پڑے گی؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں جب بالغ لڑکوں کے پاس سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہے ان کے پاس نقد رقم اور چاندی بھی نہیں ہے،تو نہ ان لڑکوں پر زکات اور نہ ہی ان کے والدین پر۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر  وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقوما بعشرة دراهم.وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال» وسواء كان الذهب لواحد أو كان مشتركا بين اثنين أنه لا شيء على أحدهما ما لم يبلغ نصيب كل واحد منهما نصابا عندنا، خلافاً للشافعي."

(كتاب الزكاة،فصل كان له ذهب مفرد، ج:2، ص:18، ط:دارالكتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں