
ہم دو بہن بھائی ہیں، میرے بھائی کا انتقال کچھ مہینے پہلے ہوا تھا ،میرے بھائی نے اپنی سالی کی بیٹی کو لے کر پالا تھا، اس کے انتقال کے بعد ہم نے جب اس کا ایف آر سی( قانونی نادرا کا پیپر) دیکھا تو اس میں میرے بھائی نے اس کو اپنی سگی بیٹی ظاہر کیا تھا اور اس میں اصل باپ کے نام کے بجائے اپنا نام ظاہر کیا تھا، مجھے کچھ لوگوں نے بتایا کہ باپ کا نام تبدیل نہیں کر سکتے ؛کیوں کہ یہ شرعاً بہت غلط ہے اور اس کی پکڑہے ،لہذا گزارش ہے کہ آپ اسلام کے مطابق بتائیں یہ درست ہے یا نہیں ؟
ہمیں قانونی پیپر سے اس کا نام نکالنا چاہیے؟
شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے /بیٹی کی حیثیت حقیقی اولاد کی طرح نہیں ہے، اور کسی کو منہ بولا بیٹا /بیٹی بنانے سے وہ حقیقی بیٹا /بیٹی نہیں بن جاتے اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ لوگ لے پالک اور منہ بولے اولاد کو حقیقی اولاد کا درجہ دیتے تھے ، لیکن اسلام نے اس تصور ورواج کو ختم کرکے یہ اعلان کردیا کہ منہ بولی اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوسکتی۔ اور لے پالک اور منہ بولی اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بچی کی ولدیت کے خانے میں آپ کے بھائی کے لیے اپنا نام لکھوانا جائز نہیں تھا ،بلکہ بچی کے حقیقی والد کا ہی نام لکھوانا ضروری تھا؛لہذا کوشش کرکے بچی کے کاغذات میں اس کے حقیقی والد نام درج کروایا جائے، البتہ پرورش کرنے ، گود لینے والے کو بچی کی پرورش کا اجر اور ثواب حاصل ہوگا۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا } [الأحزاب: 4، 5]"
"ترجمہ: اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ (از بیان القرآن)"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100696
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن