
میرے شوہر نے مجھے کہا کہتم نے اپنے ابو اور امی سے تعلق نہیں رکھنا ، نہ وہ ادھر آسکتے ہیں اور نہ تم ادھر جاسکتی ہو، اور اگر تم نے والدین سے بولنے کی کوشش کی تو تمہیں طلاق ہوگی، اس کے بعد میں اپنے میکہ چلی گئی ، اور ان سے تعلق رکھا اور بات وغیرہ بھی تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ اگر واقعۃً سائلہ کے شوہر نے اس کو سوال میں ذکر کردہ خط کشیدہ الفاظ کہے ہیں تو اس سے سائلہ کی طلاق اپنے والدین سے بات کرنے اور تعلّق رکھنے پر معلّق ہوگئی تھی، اس کے بعد جب سائلہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور ان سے بات چیت اور تعلّق رکھا تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ہے، اب اگر شوہر ، سائلہ کی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک ) میں زبانی طور پر یا تعلّق قائم کرکے رجوع کرلے تو دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، اگر شوہر نے سائلہ کی عدت میں رجوع نہیں کیا یعنی طلاق ہونے کے بعد عدت کی تیسری ماہ واری گزرگئی تو اس صورت میں دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا، اور سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ ہی رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں ، دونوں صورتوں میں اگر شوہر نے اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو تورجوع یا تجدید نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔
نیز ایک مرتبہ طلاق واقع ہوجانے کے بعد تعلیق ختم ہوجائے گی، پھر رجوع یا تجدید نکاح کے بعد اگر سائلہ اپنے والدین سے تعلّق رکھے گیتو مزید طلاق واقع نہیں ہوگی۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ عورت کو اس کے والدین سے بات چیت کرنے اور قطع تعلّقی کا حکم دینا اور اس کے خلاف کرنے پر طلاق کو معلق کرنا درست نہیں ہے، آئندہ اس سے اجتناب ضروری ہے، اگر کہیں غلطی بیوی کے والدین کی بھی ہو تب بھی مسئلہ کو باہم افہام وتفہیم سے حل کرلینا چاہیے، قطع تعلقی کرنا یا کرانا یا بیوی کو اس کے والدین سے بات چیت اور ملاقات سے روکنا گناہ ہے۔
الاختيار لتعليل المختار میں ہے :
"وألفاظ الشرط: " إن " و" إذا " و" إذا ما " و" متى " و" متى ما " و" كل " و" كلما "، فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت إلا في " كلما "، ولا يصح التعليق إلا أن يكون الحالف مالكا كقوله لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(كتاب الطلاق، تعليق الطلاق، 3/ 140، ط: دار الكتب العلمية)
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(کتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعلیق الطلاق بکلمة إن و إذا و غیرها، باب الأیمان في الطلاق، 1 /420، رشیدیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101166
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن