بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ سے سخت لہجے میں بات کرنے کا حکم


سوال

 میں ایک طالب علم ہوں اور ایک دنیادار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں،میرا اپنی والدہ کے ساتھ بہت زیادہ جھگڑا اور اختلاف رہتا ہے، جس پر میں شدید نادم ہوں۔

باقی بہن بھائی مجھ سے کئی زیادہ سخت رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اگر میں ہلکا سا کچھ بھی کہہ لوں، تو والدہ اتنا شدید ناراض ہوتی ہیں کے میرا خود کشی کرنے کو جی چاہتا ہے، اور میں اس کا ان سے کئی بار گلہ کر چکا ہوں۔

البتہ میری بھی بہت سی غلطیاں ہیں،  میں دل برداشتہ ہو کر کبھی سخت الفاظ استعمال کر بیٹھتا ہوں،  جس پر  مجھے بہت افسوس ہوتا ہے، اور بد قسمتی سے ہمارے گھر میں معذرت کرنے کا بھی رواج نہیں  کہ میں معافی مانگ سکوں، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کے میں کوئی غیر سخت بات بھی کروں تو والدہ سمجھتی ہیں کے میں نے انہیں گالی دے دی ہو۔

لیکن میری والدہ بہت ہی اچھی ہیں، میرا بہت خیال رکھتی ہیں، لیکن پتا نہیں کیوں میں ان کے (اپنے خیال کے مطابق) اولاد میں فرق کرنے سے بہت زیادہ پریشان ہوں کہ مجھے مسلسل سر کا درد مائیگرین رہتا ہے۔

بہرحال میرا مقصد یہ پوچھنا ہے کے کیا حکم ہے  میرے جیسے اس بد قسمت کے بارے میں جو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے والدین کا دل دکھا بیٹھتا ہے اور وہ چاہتے ہوئے  بھی اپنی عادت کو چھوڑ  نہیں پا رہا؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ  مطہرہ نے والدہ سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اگر کوئی شخص والدہ سے بدسلوکی، بدتمیزی سے پیش آتا ہے تو مختلف احادیث میں ایسے شخص کے  لیے سخت وعیدوں کا ذکر ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

 "عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".

(مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلة، رقم الحديث:4943، ج:3، ص:1382، ط:المكتب الاسلامى)

ترجمہ:" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔  ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں۔ "

دوسری روایت میں ہے :

"وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كلُّ الذنوبِ يغفرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شاءَ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّهُ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهِ فِي الحياةِ قبلَ المماتِ»".

(مشکاۃ المصابیح، باب البر والصلۃ، رقم الحديث:4945، ج:3، ص:1383، ط:المكتب الاسلامى)

         ترجمہ: "رسول کریم صلی علیہ وسلم نے فرمایا : شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے، مگر والدین کی نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں  جلد ہی سزا  دے دیتا ہے۔"

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کا رویّہ اپنی والدہ کے ساتھ سخت گیر ہے، اور اس رویہ پر والدہ ناراض بھی ہوتی ہے، تو سائل کو اپنے رویے پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ ساتھ والدہ سے بھی معافی مانگنی چاہیے، اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا چاہیے، اگر والدہ کی طرف سے کبھی سخت الفاظ کا سامنا بھی ہوتا ہے، تو اس پر صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے، کیوں کہ وہ بہرحال قابلِ احترام ہیں، لہذا اپنی طرف سے ان کی خدمت، اطاعت اور دیگر شرعی حقوق  میں  بالکل کوتاہی نہ کریں، ان کے سامنے غصے یا بلند آواز سے بھی بات نہ کریں، ان کا دل جیتنے کی کوشش کرتے رہیں، اور ان کے لیے مستقل  یہ دعا کرتے رہیں:

{  رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا} [بنی اسرائیل:۲۴]

اس پر خود سخت لہجہ اپنانا یا خودکشی وغیرہ کے بارے میں سوچنا درست نہیں ، جس سے احتراز ضروری ہے۔

تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي میں ہے:

"عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال: وجلس وكان متكئا، قال: وشهادة الزور أو قول الزور، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت".

(وعقوق الوالدين) بضم العين المهملة مشتق من العق وهو القطع والمراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أو فعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد، وضبطه ابن عطية بوجوب طاعتهما في المباحات فعلا وتركا، واستحبابها في المندوبات وفروض الكفاية كذلك، ومنه تقديمهما عند تعارض الأمرين، وهو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن أستمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك أن لو تركها وفعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة (قال وجلس) أي للاهتمام بهذا الأمر وهو يفيد تأكيد تحريمه وعظم قبحه (وكان متكئاً) جملة حالية، وسبب الاهتمام بذلك كون قول الزور أو شهادة الزور، أسهل وقوعاً على الناس والتهاون بها أكثر، فإن الإشراك ينبو عنه قلب المسلم. والعقوق يصرف عنه الطبع، وأما الزور فالحوامل عليه كثيرة كالعداوة والحسد وغيرهما فاحتيج إلى الاهتمام بتعظيمه، وليس ذلك لعظمهما بالنسبة إلى ما ذكر معها من الإشراك قطعاً، بل لكون مفسدة الزور متعدية إلى غير الشاهد بخلاف الشرك فإن مفسدته قاصرة غالباً. وهذا الحديث يأتي أيضاً بسنده ومتنه في الشهادات."

(باب ما جاء في عقوق الوالدين، ج:6، ص:23، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم 


فتویٰ نمبر : 144707100407

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں