
میرے والد صاحب کا انتقال چھ مہینے پہلے ہوچکا ہے، میرے بڑے بھائی نے والد صاحب سے ان کی زندگی میں تقریبا آٹھ دس سال پہلے دس تولہ سونے کا بسکٹ یعنی پیس لیا تھا، اس وقت دس تولہ سونےکی قیمت تقریبا 13 لاکھ تھی اور آج اس کی قیمت چالیس لاکھ ہوچکی ہے اور مزید بڑھ رہی ہے۔ اس وقت بھائی نے والد صاحب سے کہا تھا کہ نقد یعنی 13 لاکھ روپے اسے دوں گا لیکن آج تک انہوں نے ایک روپے بھی ادا نہیں کیا۔
تو اب وراثت کی تقسیم میں 10 تولہ کا پیس شامل کیا جائےگا، یا اس وقت بھائی نے 13لاکھ میں ادھار جو سونا خریدا تھا، وہ وقت شامل کی جائےگی؟
صورتِ مسئولہ میں والدِ مرحوم سے بطورِ قرض لیے گئے دس تولہ سونے کے بسکٹ شرعاً قرض شمار ہوں گے، لہٰذا جس طرح دیگر قرض خواہوں کا قرض واپس کرنا واجب ہوتا ہے، اسی طرح والد سے لیا گیا قرض بھی واپس کرنا لازم ہے۔
چونکہ والد کا انتقال ہوچکا ہے، اس لیے مذکورہ سونا والد کے ترکہ میں شامل کیا جائے گا، پھراس کو تمام ورثاء میں میراث کے شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
اگر ادائیگی کے وقت سونا بعینہٖ موجود نہ ہو تو اس کے بدلے اتنے ہی وزن اور معیار کے سونے کی موجودہ بازاری قیمت کے مطابق رقم ادا کرنا لازم ہوگا۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:
"يجب على المقترض أن يرد مثل المال الذي اقترضه إن كان المال مثلياً بالاتفاق، ويرد مثله صورة عند غير الحنفية إذا كان محل القرض مالاً قيمياً، كرد شاة تشبه الشاة التي اقترضها في أوصافها."
(القسم الثالث: العقود أو التصرفات المدنية المالية، الفصل الثاني، القرض، ج: 5، ص: 3793، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100794
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن