بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی جانب سے قبضہ دیے بغیر جائیداد تقسیم کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

میرے والدِ محترم نے 2016ء میں اپنی زندگی میں 42 کنال زمین اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا اور بیٹیوں کو اس میں شامل نہ کیا۔ بعض بھائیوں نے والد صاحب کو سمجھانے اور تقسیم میں بہنوں کو بھی شریک کرنے کی ترغیب دی، لیکن بڑے بھائی اور والد صاحب اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ چنانچہ مذکورہ زمین بھائیوں کے درمیان قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کر دی گئی، لیکن اس کے برعکس ایک نقشہ بنا کر بڑے بھائی نے چھوٹے بھائیوں سے دستخط بھی لے لیے۔ تاہم زمین پر کسی کو مستقل قبضہ نہیں دیا گیا، صرف ایک بھائی کو مسجد کے لیے کچھ زمین دی گئی۔

بعد ازاں والد صاحب نے انتقال سے پہلے سن 2020ء کے آخر میں اپنے سابقہ فیصلے سے رجوع کرتے ہوئے اس نقشے کو منسوخ کر دیا اور آٹھ بیٹیوں کو بھی تقسیم میں شریک کر کے تمام ورثاء کے درمیان از سرِ نو تقسیم کرنے اور نیا نقشہ تیار کرنے کا حکم دیا۔

والد صاحب کے اس فیصلے پر بعض بھائیوں نے عدمِ رضامندی کا اظہار کیا اور کہا کہ والد صاحب کی وفات کے بعد جو بھی کرنا ہوگا، دیکھا جائے گا۔

دریافت طلب مسئلہ یہ  ہے کہ:
کیا والد صاحب کے حکم کے بعد وہ پرانا نقشہ اور تقسیم شرعاً کوئی حیثیت رکھتی ہے؟ اور کیا بہنوں کو تقسیم میں شامل کرنا ضروری ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سن 2016ء میں آپ کے والد صاحب نے قرعہ اندازی کے ذریعے جو جائیداد (42 کنال زمین) تقسیم کی تھی، اس کی شرعی حیثیت ہبہ (گفٹ) کی ہے۔ شرعی طور پر ہبہ درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ موہوبہ زمین ہر ہر فرد کو مالکانہ قبضہ اور تصرف کے اختیارات کے ساتھ حوالہ کی جائے،  جبکہ آپ کے والد صاحب نے مذکورہ زمین کی تقسیم صرف فرضی نقشے کی صورت میں کی تھی، باقاعدہ قبضہ اور اختیارات کے ساتھ نہیں دی تھی۔ لہٰذا وہ ہبہ شرعی طور پر صحیح نہیں تھا اور زمین بدستور آپ کے والد صاحب ہی کی ملکیت میں باقی رہی۔

اب ان کے انتقال کے بعد یہ زمین ان کے ترکہ میں شامل ہوگی، اور اسے تمام شرعی ورثاء کے درمیان ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے، کسی وارث کو محروم کرنا جائز  نہیں ہے۔

اگر آپ مرحوم کے ترکہ کی شرعی تقسیم معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ورثاء کی تفصیلات بیان کر کے معلوم کر سکتے ہیں۔

مشکا ۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

(کتاب البیوع ، باب الغصب و العاریة، ج:2، ص:887،  ط : المکتب الاسلامي ۔ بیروت)

فیه أیضاً:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."

(کتاب الفرائض و الوصایا ، باب الوصایا ج:2،ص:926، ط : المکتب الاسلامي ، بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

 ( الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز، ج:4، ص:378، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703102169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں