بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی حیات میں ان سے خریدے گئے گھر کا حکم


سوال

ہمارے والد صاحب کی کراچی کیماڑی میں جائیداد تھی، میرا میرے والد صاحب کے ساتھ خریداری کا معاملہ ہوا تھا،اور خریداری کے کاغذات بھی منسلک ہیں،2022 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا، اب بھائی کہہ رہے ہیں کہ تمہارا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں اور مجھے گھر سے نکالنے پر آئے ہیں، دو تین دفعہ مارپیٹ بھی ہوئی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ  اس خریداری کے کاغذات کے موجودگی میں کیا حکم ہے؟ کیا یہ گھر میرا نہیں ہوگا؟ اور بھائیوں کا یہ کہنا کیسا ہے؟ کہ اس گھر میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے ؟

ہم چار بھائی دو بہنیں ہیں ۔ مذکورہ بالا گھر کے بجلی کے بل 2014 سے جمع ہو رہے ہیں جو کہ ابھی 9 لاکھ 35 ہزار تک پہنچ گیا ہے، بھائی کہہ رہے ہیں کہ بل کے پیسے چاروں بھائیوں پر تقسیم ہو ں گے؟  جب کہ میری عمر  2014  میں چودہ سال تھی، میں والد صاحب کی وفات کے بعد سے جو حساب بن رہا ہے وہ پیسے دینے کو تیار ہوں، البتہ2014 سے جو بل بن رہے ہیں وہ دینے کو تیار نہیں ہوں، اس ساری صورتِ حال میں شریعت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟

وضاحت:

میں نے 2021میں والد صاحب سے گھر خریدا تھااور میں نے اپنی جمع پونجی اور اپنے کاروبار سے گھر خریدا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً آپ نے اپنے والد سے مذکورہ مکان خرید لیا تھا اور دونوں کے درمیان خریداری کا سودا حتمی طور پر طے پاگیا تھا تو سودا ہوتے ہی مذکورہ گھروالد کی ملکیت نہیں رہا بلکہ آپ کی ملکیت ہوگیا، لہذا بھائیوں کا آپ کو اس گھر سے بےدخل کرنا درست نہیں ہے، باقی خریداری کے معاہدے میں جب یہ طے ہوچکا کہ ’’مذکورہ جائیداد کے گیس وغیرہ کے بلز، جائیداد ٹیکس اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی ذمہ داری فریق اول (والد) پر لازم ہوگی اور آج کے بعد ان تمام واجبات کی ادائیگی فریق دوم (خریدار/بیٹا) کرےگا‘‘لہذا  خریداری تک جس قدر بل واجب الاداءتھے وہ والد پر قرض ہیں جوکہ ان کے ترکہ سے ادا کیے جائیں گے اور خریداری کے معاملہ کے بعد کے تمام واجب الاداءبلوں کی ادائیگی سائل پر لازم ہوگی۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول والثاني التعاطي وهو الأخذ والإعطاء ....أما شرائط الانعقاد فأنواع منها في العاقد وهو أن يكون عاقلا مميزا كذا في الكافي والنهاية."

(كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج: 3، ص: 2، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم تقدم دیونه التي لھا مطالب من جهة العباد."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:760، ط:ایچ ایم سعید)

درر الحكام في شرح مجلة الأحکام میں ہے:

" (المادة (٨٥ : الخراج بالضمان هذه المادة هي نفس الحديث الشريف الخراج بالضمان» وهي المادة الغرم بالغنم والمادة ۸۸ كلها بمعنى واحد وإن اختلفت الألفاظ فكان من الواجب الاكتفاء بواحدة منها.

الخراج هو الذي يخرج من ملك الإنسان أي ما ينتج منه من النتاج و ما يغل من الغلات كلبن الحيوان و نتائجه و بدل إجارة العقار، وغلال الأرضين و ما إليها من الأشياء. ويقصد بالضمان المؤنة كالإنفاق على الحيوان ومصاريف العمارة للعقار و يفهم.

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج 1، ص: 88، ط: دار الجيل)

وفیہ ایضاً:

"تتعلق حقوق أربعة مترتبة في تركة الميت وهي:

1 - تجهيز وتكفين الميت بلا إسراف ولا تعتبر من أمواله.

2 - تؤدى جميع ديونه من أمواله الباقية.

3 - تنفذ وصيته من أمواله الباقية بعد ذلك من ثلث أمواله وتوفى تقسم جميع أمواله الباقية بين ورثته على الوجه الشرعي."

(الكتاب العاشر الشركات، خاتمة في حق أحكام القرض والدين وتشمل مباحث عديدة، ج:3،ص:95،ط:دار الجيل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100789

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں