بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا اپنے چھوٹے بیٹے کو بلا قصد گاڑی سے شہید کرنے کی صورت میں دیت اور کفارے کا حکم


سوال

ایک شخص سے اپنے بیٹے کی موت واقع ہوگئی، جس کی عمر تقریباً تین سال تھی، واقعہ یوں پیش آیا کہ والد نے بچے کو  سامنے سائیڈ میں بیٹھا یا تھا، اور ہاتھ کا سہارا بھی  دیا ہوا تھا، اس دوران جب والد نے پیچھے دیکھا تو وہ اچانک ٹریکٹر سے گر گیا، اور ٹریکٹر کے بڑے ٹائر کے نیچے آ کر دب گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ یا چھ گھنٹے بعد وہ فوت ہوگیا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا والد پر دیت یا کفارہ وغیرہ  لازم آتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص کے بیٹے کی موت اس کے ٹریکٹر  کے نیچے آنے سے واقع  ہوگئی ہے، تو یہ  قتل خطا شمار ہوگا، جس میں کفارہ اور دیت دونوں لازم ہوتے ہیں، یعنی مذکورہ شخص پر ایک کفارہ (مسلسل ساٹھ روزے رکھنا،  اگرکسی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سر نو  روزے رکھنا پڑیں گے) اور دیت لازم ہوگی، دیت  میں   دس ہزار درہم شرعی ہے،   جس کا وزن جدید پیمانے  کے اعتبار  سے 30.618 کلوگرام چاندی یا اس کی قیمت ہے، مذکورہ دیت کی ادائیگی اس شخص کے عاقلہ ( یعنی  قاتل کے وارثین ) پر تین سال میں ادا کرنا   لازم ہوگا، جسے  مرحوم بچے کے والد کے علاوہ  مرحوم کے بقیہ ورثاء میں شرعی حصص کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، پس ورثاء میں سے اگر کوئی دیت معاف کردیتا ہے، تو اس کا حصہ دیت  میں سے کم کردیا جائے گا، البتہ اگر مرحوم بچے کے ورثاء مکمل دیت لینے کے بجائے اس سے کم پر  باہمی رضامندی سے صلح کرلیں ، یا  سب دیت معاف کردیں،  تو یہ بھی جائز ہوگا۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام  میں ہے:

"(قال ومن قاد قطاراً فهو ضامن لما أوطأ)، فإن وطئ بعير إنساناً ضمن به القائد والدية على العاقلة؛ لأن القائد عليه حفظ القطار كالسائق وقد أمكنه ذلك وقد صار متعدياً بالتقصير فيه، والتسبب بوصف التعدي سبب للضمان، إلا أن ضمان النفس على العاقلة فيه وضمان المال في ماله (وإن كان معه سائق فالضمان عليهما) لأن قائد الواحد قائد للكل، وكذا سائقه لاتصال الأزمة، وهذا إذا كان السائق في جانب من الإبل، أما إذا كان توسطها وأخذ بزمام واحد يضمن ما عطب بما هو خلفه، ويضمنان ما تلف بما بين يديه لأن القائد لا يقود ما خلف السائق لانفصام الزمام، والسائق يسوق ما يكون قدامه."

(كتاب الديات، باب جناية البهيمة والجناية عليها، 10 / 330، ط: دار الفكر)

تکملة فتح الملهممیں ہے :

"ثم لم یذکر الفقهاء حکم السیارة لعدم وجودها في عصرهم، والظاهر أن سائق السیارة ضامن لما أتلفته في الطریق سواء أتلفته من القدام أو من الخلف، ووجه الفرق بینها وبین الدابة علی قول الحنفیة أن الدابة متحرکة بإرادتها، فلاتنسب نفحتها إلی راکبها بخلاف السیارة، فإنها لاتتحرك بإرادتها فتنسب جمیع حرکاتها إلی سائقها فیضمن جمیع ذلك، والله سبحانه و تعالیٰ أعلم."

(باب جرح العجماء و المعدن و البئر جبار، 2/ 523، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والدية على العاقلة) والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة.(قوله لترك العزيمة) وهي هنا المبالغة في التثبت. قال في الكفاية: وهذا الإثم إثم القتل؛ لأن نفس ترك المبالغة في التثبت ليس بإثم، وإنما يصير به آثما إذا اتصل به القتل فتصير الكفارة لذنب القتل وإن لم يكن فيه إثم قصد القتل اهـ تأمل."

(كتاب الجنايات، 6 / 531، ط: دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"جوز الصلح عن جناية العمد والخطأ في النفس وما دونها إلا أنه لو صالح في العمد على أكثر من الدية جاز، كذا في الاختيار شرح المختار ويكون المال حالا على الجاني في ماله دون العاقلة، كذا في الحاوي، وفي الخطأ لو صالح على أكثر من الدية لايجوز، كذا في الاختيار شرح المختار."

(كتاب الصلح، الباب الثاني عشر في الصلح عن الدماء والجراحات، 4 / 260، ط: دار الفكر)

السراجی فی المیراث میں ہے:

"والمحروم لا يحجب عندنا، وعند ابن مسعود رضي الله عنه يحجب حجب النقصان، كالكافر والقاتل والرقيق."

(باب الحجب، ص: 65 - 66، ط: المكتبة البشرى، كراتشي)
فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704101957

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں