
ایک بالغ لڑکی ہے،اس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے نکاح کے وقت قاضی صاحب نے وکیل کا پوچھا تو اس کے ماموں نے کہا کہ میں وکیل بنوں گا، قاضی صاحب نے کہا کہ آپ لڑکی سے اجازت لےلیں، اس کے ماموں نے نکاح نامہ لے کر لڑکی کو دکھا کر کہ یہ آپ کا مہر لکھا ہے اس سے دستخط کروا لیے اور لڑکی کی طرف سے ایجاب وقبول کیا اور لڑکے نے خود ایجاب و قبول کیا ۔
کیالکھا ہوا مہر دکھا کر دستخط لینے سے لڑکی کے ماموں کو اجازت مل گئی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر ماموں نے مہر دکھا کر لڑکی سے اجازت اور اپنی وکالت کے لیے نکاح نامہ پر لڑکی سے دستخط کروائے، اور لڑکی کو یہ علم تھا کہ ماموں اس کی طرف سے نکاح کرے گا، اور اس نے خوش دلی سے دستخط کیے، تو یہ دستخط لڑکی کی طرف سے اجازت شمار ہو گا، ماموں اس کا وکیل معتبر ہوگا، اور اس کے بعد ماموں کا لڑکی کی جانب سے ایجاب و قبول کرنا شرعاً درست ہوگا، لہٰذااگر ایجاب وقبول شرعی گواہاں کی موجودگی میں ہوا تھاتو نکاح بھی منعقد ہو گا۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
[المادة 69 :الكتاب كالخطاب]
"هذه المادة هي نفس قاعدة (الكتاب كالخطاب) المذكورة في الأشباه. والمقصود فيها هو أنه كما يجوز لاثنين أن يعقد بينهما مشافهة عقد بيع أو إجارة أو كفالة أو حوالة أو رهن أو ما إلى ذلك من العقود، يجوز لهما عقد ذلك مكاتبة أيضا. والكتب على ثلاثة أنواع: (1) المستبينة المرسومة (2) المستبينة غير المرسومة (3) غير المستبينة.
فالمستبينة المرسومة هي أن يكون الكتاب منها مما يقرأ خطه، ويكون وفقا لعادات الناس ورسومهم ومعنونا. وقد كان من المتعارف في زمن صاحب (مجمع الأنهر) أن يكتب الكتاب على ورق ويختم أعلاه، وكل كتاب لا يكون على هذه الصورة مكتوبا على ورق ومختوما لا يعد مرسوما، أما في زماننا فالكتاب يعد مرسوما بالختم والتوقيع على حد سواء، وذلك بمقتضى المادة (1610) ولكن إذا كتب كتاب في زماننا على غير الورق مثلا ينظر إذا كان المعتاد أن تكتب الكتب على غير الورق يعتبر ذلك الكتاب، كما لو كتب على ورق وإلا فلا. والحاصل أن كل كتاب يحرر على الوجه المتعارف من الناس حجة على كاتبه كالنطق باللسان."
(المقالة الثانية، ج:1، ص: 69، ط:دارالجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101526
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن