بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل کے ذریعے خرید و فروخت اور بیع قبل القبض کا حکم


سوال

 میں گھی، تیل، اور شہد کی تشہیر کرتا ہوں، اور جب کوئی کسٹمر میرے پاس آتا ہے تو میں پہلے اس شخص سے خریداری کرتا ہوں اور پھر جس کسٹمر کو ضرورت ہوتی ہے، اسے پہنچا دیتا ہوں۔ اس شخص نے مجھے بتایا ہے کہ وہ مجھے اجازت دیتا ہے اور مجھے اپنا وکیل مقرر کرتا ہے۔ میں نے یہ پڑھا ہے کہ بغیر قبضے میں لیے آگے بیچنا جائز نہیں ہے، تو کیا یہ وکیل کی صورت جائز ہوگی؟ یہ ممکن ہے کہ میں ایک ایک باکس، مثلاً آدھا کلو، خرِیدلوں اور اگر ایک کلو کا آرڈر ملے تو میں اسی وقت وہ خرید کر فراہم کر دوں۔ میں نے اس بارے میں کافی مطالعہ کیا ہے لیکن مجھے مکمل طور پر سمجھ نہیں آیا۔ ایک طریقہ میں نے پڑھا ہے جس میں یہ لکھا تھا کہ بیچنے کا وعدہ کریں، نہ کہ بیچیں۔ کیا یہ پیچیدگی کسٹمر کے لیے واضح ہوگی، یعنی میں پہلے یہ بتاؤں کہ میں نے آپ کو ابھی نہیں بیچا، بلکہ صرف وعدہ کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بنیادی کام گھی تیل اور شہد کی تشہیر کرنا ہے اگر سائل کے پاس کوئی خریدار آئے تو سائل کا ان چیزوں پر قبضہ حاصل کیے بغیر ان کا کسی خریدار کو فروخت کرنا جائز نہیں،جواز کی ایک صورت ہے کہ سائل کمپنی کے مالک سے ابتدا یہ چیز مثلا گھی وغیرہ خریدلے اور سائل کی طرف سے کوئی وکیل/نمائندہ اس پر قبضہ کرے اس کے بعد سائل فروخت کر سکتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ سائل خریدار سے وعدہ بیع کر لے کہ "میں یہ چیز آپ کو اتنے میں فروخت کروں گا"یا یہ چیز اتنے میں ملے گی،پھر مال خریدنے اور اس پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد فروخت کر دے، تو یہ درست ہو جائےگا۔

مسند الإمام أحمد بن حنبلمیں ہے:

"٣٧٨٣ - حدثنا حسن، وأبو النضر، وأسود بن عامر، قالوا: حدثنا شريك، عن سماك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود،، عن أبيه، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة. "

( مسند المكثرين من الصحابة، مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه، ٦ / ٣٢٤، ط: مؤسسة الرسالة )

فتاوی شامی ہے:

"(وملك) بالقبول (بلا قبض جديد لو الموهوب في يد الموهوب له) ولو بغصب أو أمانة؛ لأنه حينئذ عامل لنفسه، والأصل أن القبضين إذا تجانسا ناب أحدهما عن الآخر، وإذا تغايرا ناب الأعلى عن الأدنى لا عكسه"

(قوله ولو بغصب) انظر الزيلعي (قوله عن الآخر) كما إذا كان عنده وديعة فأعارها صاحبها له فإن كلا منهما قبض أمانة فناب أحدهما عن الآخر (قوله عن الأدنى) فناب قبض المغصوب والمبيع فاسدا عن قبض المبيع الصحيح۔۔۔الي آخره"

(‌‌كتاب الهبة، ج: 5، ص: 694 ط:سعید)

المحيط البرهاني  میں ہے:

"لأن الثمن ‌بيع ‌المنقول ‌قبل ‌القبض إنما لا يجوز لمكان الغرر وهو انفساخ البيع الأول بالهلاك،

‌‌كتاب البيع،‌‌الفصل الأول: فيما يرجع إلى انعقاد البيع، ج:6 ص:277 ط:دار الكتب

المحيط البرهاني  میں ہے:

"لأن ‌بيع ‌المنقول ‌قبل ‌القبض لايجوز، فجعلناه فسخا في حق الكل أصلا،"

(‌‌كتاب البيع،‌‌‌‌الفصل الرابع عشر: في العيوب، ج:6 ص:610 ط:دار الكتب)

البناية شرح الهداية میں ہے:

"أن ‌بيع ‌المنقول ‌قبل ‌القبض لا يجوز بالإجماع"

(‌‌باب الإقالة،ج:8 ص:229 ط:دار الکتب)

تبين الحقائق شرح كنز الدقائقمیں ہے:

 "لايجوز بيع المنقول قبل القبض؛ لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام: «إذا ابتعت طعامًا فلاتبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

( کتاب البیوع، باب التولیة، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:٤ ص: ٨٠ ، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں