بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل مقرر کر کے ٹیلیفون پر نکاح کی صورت کاحکم


سوال

میرا نکاح  آن لائن میری ایک رشتہ دار سے ہوا ہے، میری عمر 30 سال ہے اور لڑکی کی عمر 33 سال ہے، ہم دونوں عمان میں رہتے تھے، ہم دونوں نے فون پر اپنا اپنا وکیل مقرر کیا، اور اس کے گواہ بھی موجود ہیں، پھر گواہوں کی موجودگی میں ہمارے مقرر کردہ وکیل (جو میری طرف سے اور لڑکی کی طرف سے تھے) نے ایجاب و قبول کے ساتھ ہمارا نکاح کرادیا، جس مجلس میں نکاح ہوا اس میں آن لائن ہم سب شریک تھے، ہم نے بھی ایجاب و قبول کیا، ہم میں  سے ہر ایک کی طرف سے گواہان اور وکیل  بھی مقرر تھے،اب لڑکی کے گھر والے اس نکاح پر  راضی نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا نکاح ہوا ہے یانہیں ؟ جب کہ ہم نے آٹھ مرتبہ رشتہ بھیجا ہے، لیکن لڑکی کے گھر والوں نے نہیں مانا، شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس  کا ایک ہونا، اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا خود موجود ہونا یا ان کے وکلاء کا موجود ہونا ضروری ہے۔ نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا، اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے۔نیز ملحوظ رہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اگر اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر خود کرلے تو ایسا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہےاگرچہ ولی  کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا اخلاقاً ناپسندیدہ عمل ہے۔ 

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً  لڑکے اور لڑکی نے نکاح کے لیے  اپنا اپنا وکیل مقرر کیاتھا،پھر دونوں کے وکیلوں نے ایک ہی مجلس میں دو گواہوں  کی موجودگی میں ایجاب قبول کیااوراسی مجلس میں  شرعی گواہوں نے ایجاب و قبول کو سنا بھی ہے،  تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو گیاہے۔اس کے بعد لڑکے اور لڑکی کےآن لائن اپنے ایجاب و قبول کی چنداں  ضرورت نہ تھی اور نہ ہی  آن لائن ایجاب و قبول کی کوئی شرعی حیثیت ہے۔ نیز  مذکورہ لڑکی کا نکاح اگرچہ اس کے والدین کی اجازت کے بغیر کیا گیا تو یہ  ناپسندیدہ عمل تھا، لیکن شرعی ظابطہ کے مطابق مذکورہ صورت میں لڑکی کے والدین کی اجازت کے بغیر بھی دونوں کا نکاح منعقد ہو گیاہے۔

تاہم اگر لڑکی نے یہ نکاح والدین کی اجازت  کے بغیراپنے کفو میں کیا ہوتو نکاح برقرار رہے گا، اور والدین کویہ نکاح فسخ کرنے کا کوئی  اختیار نہیں ہو گا۔اور  اگر لڑکی نے والدین کی اجازت کے بغیر غیر کفومیں نکاح کیا ہو تو  لڑکی کے والد ین کو اس کی اولاد ہونے سے پہلے پہلے عدالت سے رجوع کر کے نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہو گا، اور اگر نکاح کے بعد اس کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو پھر اس کے والدین کو فسخِ نکاح کا ختیار نہیں ہو گا۔اور کفو کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین،دیانت، نسب، پیشہ ، مال اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:55،ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر، فكان القياس وجودهما في مكان واحد، إلا أن اعتبار ذلك يؤدي إلى سد باب العقود؛ فجعل المجلس جامعا للشطرين حكما مع تفرقهما حقيقة للضرورة، والضرورة تندفع عند اتحاد المجلس، فإذا اختلف تفرق الشطرين حقيقة وحكما فلا ينتظم الركن."

(کتاب النکاح،فصل شرائط الركن، ج:2، ص:232، ط: دارالکتب العلمية)  

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض.۔۔۔۔۔۔۔۔وسكوت الولي عن المطالبة بالتفريق لا يبطل حقه في الفسخ، وإن طال الزمان حتى تلد، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان أما إذا ولدت منه؛ فليس للأولياء حق الفسخ."

(کتاب النکاح، ‌‌الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:292، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101804

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں