
میرے والدِ مرحوم نے اپنا ذاتی مکان 86 لاکھ روپے میں بیچ کر میرے شوہر (جو میرے والد کے بھتیجے بھی ہیں) کے ذریعے ایک پورشن بک کروایا (یعنی قسطوں پر خریدا)۔ پہلی قسط ابو نے خود ہی ادا کی۔
میرا کوئی بھائی نہیں ہے، ہم صرف 3 بہنیں ہیں۔
کچھ عرصہ بعد والد صاحب کو کینسر ہو گیا، وہ زیادہ عرصہ میرے پاس ہی رہے، اس لیے جو گھر بکا تھا اس کے پیسے بھی میرے شوہر کے ہاتھ سے ہی بلڈر کو دیے گئے۔
ابو کی بیماری کے آخری چند مہینوں میں خدمت کے لیے میل نرس (مرد نرس) کو رکھنا پڑا، پردے کے مسائل کی وجہ سے کرایہ پر ایک گھر لے کر ابو اور امی کو وہاں منتقل کر دیا گیا۔ ابو کے انتقال کے بعد امی تا حال اسی کرائے کے گھر میں گزاری ۔
اس دو ڈھائی سال کے عرصے میں اس کرائے کے مکان کا کرایہ جو کہ 41 ہزار روپے ماہانہ ہے، "امی" نے صرف سات ماہ تک مکمل کرایہ دیا۔
جس بلڈر سے پورشن بک کروایا تھا اس نے کہا تھا کہ میں ایک سال میں یہ آپ کو دے دوں گا، چونکہ اس نے ایک سال میں یہ پورشن ہمیں نہیں دیا تو اس نے ہم سے کہا کہ آپ کے گھر کا جو کرایہ ہے وہ ایک سال سے اوپر جتنا عرصہ گزرے گا اس کا کرایہ میں دیتا رہوں گا، چنانچہ شروع میں گھر کا کرایہ بلڈر کے دیے گئے 96 لاکھ میں سے کاٹا گیا تھا۔
ایک سال سے مکان کے کرایے کے 30 ہزار میں اور میرے شوہر دے رہے ہیں جبکہ باقی 11 ہزار میری والدہ دے رہی ہیں۔ جبکہ بلڈر تقریباً ایک سال پہلے بھاگ گیا ہے اور ڈیفالٹر ہو گیا ہے اور اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
جو پورشن والی بلڈنگ کا مالک ہے وہ کہتا ہے کہ اس بلڈنگ میں آپ کا کوئی پورشن نہیں ہے، آپ نے پیسے اس بلڈر کو دیے ہیں مجھے نہیں۔
اب ابو کی پنشن کی رقم بھی آتی ہے، دکان کا کرایہ بھی آتا ہے اور میزان بینک میں کچھ رقم انویسٹ کی ہوئی ہے، اس کا منافع بھی آتا ہے، یہ سب کچھ "امی" لیتی ہیں۔
میں نے اور میرے شوہر نے اس پورے عرصے میں پولیس کمشنر کراچی اور وکیل وغیرہ کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن معاملہ حل نہیں ہوا، اور اس پر ہمارا لاکھوں روپےلگ گئے جو صرف میں نے اور میرے شوہر نے دیے۔ "امی" کہتی ہیں کہ پورشن کی بکنگ چونکہ تم لوگوں کے ذریعے ہوئی تھی لہذا سارے معاملے کے تم لوگ ہی ذمہ دار ہو۔
اب میں اور میرا شوہر ہر مہینے والدہ کے مکان کا کرایہ 30 ہزار بھی دے رہے ہیں جبکہ 11 ہزار والدہ خود دے رہی ہیں۔ اور ہمارے لاکھوں روپے اسی معاملے کو حل کرنے کے چکر میں لگ چکے ہیں۔
اب والدہ یہ کہتی ہیں کہ یا تو مجھے پورشن دو یا پورشن کے جو پیسے بلڈر کو دیے تھے یعنی 96 لاکھ روپے، وہ مجھے دو۔ کیونکہ میں بلڈر کو نہیں جانتی اور پیسے تم لوگوں کے ہاتھ سے دیے گئے تھے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایک پورشن کے 96 لاکھ روپے والدہ کو دینا مجھ پر اور میرے شوہر پر لازم ہے؟
جبکہ ہم نے تو صرف نیکی سمجھ کر والد مرحوم کی خدمت کی نیت سے ان کے کہنے پر ہی بک کروایا تھا ۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائلہ کے والدنےاز خود یہ پورشن خریدا تھا اور سائلہ کے شوہرنے ان کے کہنے پر محض ادائیگی کی تھی اور کوئی ذمہ داری نہیں لی تھی تو شرعی طور پر وہ سائلہ کے والد کی طرف سے "وکیل" تھے اور وکیل کے ہاتھ میں موکل ( یعنی سائلہ کی والد ) کی رقم "امانت" تھی ۔ اور جب وکیل (یعنی سائلہ کے شوہر ) نے وہ پیسے مطلوبہ بلڈر کو پہنچا دیےتو وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو گئے ،اب بلڈر روپوش ہو گیا ہے یا رقم لے کر بھاگ گیا ہے، تو اس میں وکیل ( سائلہ کی شوہر) کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہے لہٰذا سائلہ کی والدہ کاپیسوں کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔
مجلة الأحكام العدلية میں ہے :
(المادة (1463) :" المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان " )
(الكتاب الحادي عشر: في الوكالة،الباب الثالث: في بيان أحكام الوكالة،الفصل الأول: في بيان أحكام الوكالة العمومية، ص: 284 )
البحر الرائق میں ہے :
"ومنه أنه أمين فيما في يده كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع ويبرأ به "
(كتاب الوكالة ، حكم الوكالة ، ج: 7 ص: 141،ط: دار الكتاب الإسلامي )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102039
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن