بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل کا ناحق مقدمہ لڑنا


سوال

میں اس وقت قانون (وکالت) کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں اور مستقبل میں بطور وکیل پریکٹس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں،اس حوالے سے ایک شرعی رہنمائی درکار ہے، میرا سوال یہ ہے کہ:

جب ایک وکیل عدالت میں کسی مؤکل (Client) کا کیس لیتا ہے، تو بعض اوقات ایسے مقدمات بھی سامنے آتے ہیں جن میں مؤکل حقیقت میں قصوروار ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات وہ خود وکیل کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیتا ہے (مثلاً قتل، زنا بالجبر وغیرہ)، ایسی صورت میں اگر وکیل اس شخص کا کیس لے کر عدالت میں اس کا دفاع کرے، اس کے لیے دلائل پیش کرے اور قانونی طریقے سے اسے سزا سے بچانے کی کوشش کرےتو:

1۔کیا شریعت کی نظر میں ایسا وکیل گناہگار ہوگا؟ کیا یہ عمل جھوٹ، ظلم یا گناہ میں تعاون کے زمرے میں آئے گا؟

2۔اگر وکیل صرف قانونی حق (جیسے مناسب سزا یا قانونی تقاضے پورے کروانا) کی حد تک دفاع کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

3۔ایک مسلمان وکیل کے لیے کن حدود و قیود کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ حرام کام میں مبتلا نہ ہو؟ 

جواب

1۔ مؤکل کا جرم اور زیادتی  معلوم ہونے کے باوجود اس کا دفاع کرنا وکیل کے لیے شرعا جائز نہیں ہے،یہ عمل  جھوٹ،گناہ میں معاونت اور مظلوم کے مقابلہ میں ظالم کی مدد جیسے بڑے گناہوں پر مشتمل ہے، وکیل کے لیے  اس سے اجتناب نہایت  ضروری ہے۔

2۔ مؤکل کے جرم اور گناہ کے حساب سے اس کو مناسب سزا دلوانے کے لیے  وکیل اگر مقدمہ لڑتاہے،یا ایسے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مقدمہ لڑتاہے کہ جس میں مظلوم کے ساتھ زیادتی نہ ہو،بلکہ مجرم کو اس کے جرم کے حساب سے  سزا مل سکے ،تو یہ درست ہے۔

3۔وکالت کا پیشہ فی نفسہ جائز ہے،وکیل درحقیقت اپنے مؤکل کا ترجمان ہوتاہے،مؤکل اپنی ناسمجھی ، کم علمی، ناتجربہ کاری اور قانون سے لاعلمی کی وجہ سےاکثراپنے موقف کو درست طریقہ سے پیش نہیں کرپاتا،اس لئے وہ وکیل کرتاہےاور ان کی مدد لیتاہے،لیکن جس طرح مؤکل کے لئےجھوٹ بولنا اور حقائق کو الٹ کر پیش کرنا حرام ہے،اسی طرح وکیل کے لئے جھوٹ وفریب کا سہارا لے کرمؤکل کے حق میں فیصلہ دلوانا بھی ناجائز اور حرام ہے اور اس کی اجرت بھی ناجائز ہے، لہذا وکیل کو چاہئے کہ  جھوٹ ،دھوکہ،رشوت،مظلوم کے مقابلہ میں ظالم کی مدد وغیرہ امور سے اجتناب کرے ، ناحق کو حق ثابت نہ کرے،ظالم کو بری  کروانے کی کوشش نہ کرے،بلکہ امانت اوردیانت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو مظلوموں کی مدد کے لیے استعمال کرے،حقداروں کو ان کا حق دلوانے کے لیے  وکالت کرے،تو اس طرح وکالت کا پیشہ اختیار کرنا باعث اجرو ثواب بھی ہوگا۔

وفي أحكام القرآن للجصاص :

"قوله تعالى: {‌ولا ‌تكن للخائنين خصيما} روي أنه نزل في رجل سرق درعا، فلما خاف أن تظهر عليه رمى بها في دار يهودي، فلما وجدت الدرع أنكر اليهودي أن يكون أخذها، وذكر السارق أن اليهودي أخذها، فأعان قوم من المسلمين هذا الآخذ على اليهودي، فمال رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قولهم، فأطلعه الله على الآخذ وبرأ اليهودي منه ونهاه عن مخاصمة اليهودي وأمره بالاستغفار مما كان منه من معاونته الذين كانوا يتكلمون عن السارق. وهذا يدل على أنه غير جائز لأحد أن يخاصم عن غيره في إثبات حق أو نفيه وهو غير عالم بحقيقة أمره; لأن الله تعالى قد عاتب نبيه على مثله وأمره بالاستغفار منه. وهذه الآية وما بعدها من النهي عن المجادلة عن الخونة إلى آخر ما ذكر كله تأكيد للنهي عن معونة من لا يعلمه محقا."

 (2/ 349،ط العلمية)

فتح القدیر میں ہے:

"(وتجوز ‌الوكالة ‌بالخصومة في سائر الحقوق) لما قدمنا من الحاجة إذ ليس كل أحد يهتدي إلى وجوه الخصومات. وقد صح أن عليا - رضي الله عنه - وكل عقيلا، وبعدما أسن وكل عبد الله بن جعفر - رضي الله عنه."

(کتاب الوکالة، ج:7، ص:504، ط:دارالفکر بیروت لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں