بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1448ھ 29 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وہم اور وساوس کی بیماری کی وجہ سے زبان سے کلماتِ کفر نکلنا


سوال

زید وسواسی اور وہمی بیماری کا شکار ہے ۔ وساوس اور وہمیات کے بارے میں روحانی علاج کروایا ، عاملوں نے اس سے کہا کہ تم پر جنات نے جادو کیا ہے ، تم پر جنات مسلط ہیں ؛ وہ تمہاری زبان سے برے الفاظ ، گالم گلوچ اور مفضی الی الکفر کلمات نکلواتے ہیں لیکن عاملوں کے اس علاج سے بھی کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔

پھر ڈاکٹروں کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے اعصابی بیماری کی شکایت کا کہا ،  ڈاکٹروں کے علاج سے بھی کچھ نہ ہوا اور علاج کارگر ثابت نہ ہوا۔

تو کیا زید کے منہ سے وساوس اور وہمیات کی بناء پر بلا ارادہ اوربلا کنٹرول  نماز میں بھی اور نماز سے باہر بھی کسی کو کافر کہنا کسی کو کتا کہنا جیسے الفاظ زبان پر آجاتے ہیں تو زید اس حال میں ان الفاظ کی بناء پر اسلام سے خارج ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ اور ایسے الفاظ کہنے پر زید کا مؤاخذہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر زید واقعی وسوسوں اور توہمات کی بیماری سے اس حد تک متاثر ہے  کہ اس کی کسی لمحہ ان چیزوں سے جان نہیں چھوٹتی اور مختلف اطباء سے علاج کرانے کے باوجود افاقہ نہ ہوسکا،  اور اس حالت میں غیر ارادی طور پر اس کی زبان سےاگر گالم گلوچ ،  برے الفاظ اور کلمات کفرتک  نکل جاتے ہیں اور بعد میں حواس کی حالت میں اس کو معلوم ہو نےپر وہ ان سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرتا ہے تواس سے کفر لازم نہیں آئے گا اور ایسے شخص  کے معذور ہونے کی وجہ سے امید ہے کہ ان شاء اللہ آخرت میں بھی مؤاخذہ نہیں ہوگا ۔

سنن ابو داؤد میں ہے : 

"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل»."

(کتاب الحدود، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا، ج:4، ص:141، ط: المكتبة العصرية، بيروت)

ترجمہ: ”نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے۔“ 

فتاویٰ شامی میں ہے : 

"(وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لايعقل وسكران ومكره عليها، وأما البلوغ والذكورة فليسا بشرط بدائع.

قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلاً أو لاعبًا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده، كما صرح به في الخانية. ومن تكلم بها مخطئًا أو مكرهًا لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها  عامدًا عالمًا كفر عند الكل، ومن تكلم بها اختيارًا جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ".

(کتاب الجھاد، باب المرتد ،ج: 4، ص: 224، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں