بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وفات کی عدت میں شادی کے لیے نکلنا


سوال

میری بیٹی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے، انتقال کو تقریبا ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے، میری بیٹی عدت وفات میں ہے، کیا وہ عدت وفات میں اپنے بھائیوں کے بیٹوں کی شادی میں جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ بیوہ عورت پر اپنے شوہر کے انتقال کے دن سے (قمری اعتبار سے) چار مہینے  دس دن عدت گزارنا لازم ہے، اور اس دوران اس کے لیے   شدید ضرورت کے بغیر گھر سے نکلنا،  زیب وزینت، بناؤسنگھار  کرنا، خوشبو  لگانا، اور  نئے کپڑے وغیرہ پہننا جائز نہیں ، چاہے عدت پوری ہونے میں ایک دن ہی کیوں نہ باقی ہو۔

لہٰذا بیوہ کے اقرباء میں کسی کی شادی کی تقریب ہو تو   عدت کے دوران گھر سے باہر  جانا شرعاً جائز نہیں ۔

  البحر الرائق  میں ہے :

"وجب في الموت إظهاراً للتأسف علی فوات نعمة النکاح؛ فوجب علی المبتوتة إلحاقاً لها بالمتوفی عنها زوجها بالأولی؛ لأن الموت أقطع من الإبانة ... دخل في ترک الزینة الامتشاط بمشط أسنانه ضیقة لا الواسعة، کما في المبسوط، وشمل لبس الحریر بجمیع أنواعه وألوانه ولو أسود، وجمیع أنواع الحلي من ذهب وفضة وجواهر، زاد في التاتارخانیة القصب".

(۴/۲۵۳، کتاب الطلاق ، فصل فی الإحداد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه".

(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الطلاق،‌‌باب العدة، فصل في الحداد، 536/3، سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں