
ایک شخص جو کلالہ ہے، دورانِ ملازمت انتقال کر گیا۔ اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک حقیقی بھائی اور پانچ حقیقی بہنیں شامل ہیں۔ اب حکومت کی طرف سے جو واجبات حق الخدمت فنڈز كی صورت ميں اكھٹے ادا کیے جائیں گے، ان کے شرعی وارث کون ہوں گے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ پینشن بیوہ کا حق ہے، جو ہر ماہ ملتی ہے۔
واضح رہے کہ سرکاری اور بعض نجی اداروں کی طرف سے ملازمین کی ریٹائرمنٹ یا وفات پر پنشن اور مختلف فنڈز کی صورت میں جو رقم دی جاتی ہے، اس کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ بطورِ فنڈ ملنے والی رقم اگر ملازم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرکے دی جاتی ہو، تو وہ اسی کی ملکیت شمار ہوگی اور اس کی وفات کے بعد ترکہ میں شامل ہوگی۔
اور جو رقم ملازم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کے بغیر ادارہ خود اپنی طرف سے بطورِ احسان یا حقِ ملازمت ادا کرے، تو وہ ملازم کی زندگی میں اسی کی ملکیت ہوگی، اور اس کی وفات کے بعد اس کے پسماندگان میں سے ادارہ جس کے نام وہ رقم جاری کرے، وہی اس کا مالک ہوگا۔
چنانچہ مثال کے طور پر ”جی پی فنڈ“ اور ”پراویڈنٹ فنڈ“ اور دیگر وہ فنڈز جن میں ملازم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کی جاتی ہے، اس مد میں ملنے والی رقم ملازم کے ترکہ میں شمار ہوگی، خواہ یک مشت ملے یا ماہانہ یا سالانہ بنیاد پر ملے۔
اس کے علاوہ جو رقم ”گریجویٹی فنڈ“ یا ”پنشن“ کے طور پر متعلقہ ادارہ دیتا ہے، وہ چونکہ ملازم کی تنخواہ میں سے نہیں کاٹی جاتی، بلکہ دورانِ ملازمت ایک خاص مدت مکمل کرنے پر بطورِ حقِ ملازمت اسے، یا اس کی وفات کے بعد اس کے متعلقین میں سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اسی طرح ”بینوولنٹ فنڈ“ بھی عموماً تنخواہ میں سے نہیں کاٹا جاتا؛ البتہ بعض ادارے ”بینوولنٹ فنڈ“ کے لیے ملازم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرتے ہیں، تو وہ چونکہ عطیہ و چندہ کے طور پر کاٹی جاتی ہے، اس لیے شریعت کی رو سے ”پنشن“، ”گریجویٹی“ اور ”بینوولنٹ فنڈ“ کی مد میں ادارے کی جانب سے دی جانے والی رقم انعام و عطیہ شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا ملازم کی وفات کے بعد متعلقہ ادارہ مرحوم کے متعلقین میں سے جس کے نام یہ رقم جاری کرے، شریعت کی رو سے وہی اس رقم کا حقدار ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں ہوگا۔
پس صورتِ مسئولہ میں فنڈز کی جو رقم مرحوم کے ترکہ شمار ہو، اسے ان کے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 28 حصّوں میں تقسیم کرکے 7 حصّے مرحوم کی بیوہ کو، 6 حصّے بھائی کو اور 3/3 حصّے ہر ایک بہن کو ملیں گے۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:28/4
| بیوہ | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 3 | |||||
| 7 | 6 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے %25 مرحوم کی بیوہ کو، %21.428 بھائی کو اور %10.714 ہر ایک بہن کو ملیں گے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته»ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا."
(کتاب الحدود، فصل فی شرائط جواز اقامة الحدود، ج:7، ص: 57، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)
وفيه أيضاً:
"أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض."
(کتاب الهبة، فصل في حكم الهبة، ج:6، ص:127، ط:دار الکتب العلمية بیروت)
فتاویٰ عالمگیری ہے:
"ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط."
(كتاب الإجارة، الباب الثاني، ج:4، ص:413، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
امداد الفتاویٰ میں ہے :
”چوں کہ میراث اموال مملوکہ میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان سرکار کا ہے بدون قبضہ مملوک نہیں ہوتا ،لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی ،سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے۔“
(کتاب الفرائض، ج:4، ص:342، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)
جواہر الفقہ میں ہے:
”جبری پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے نام پر رقم ملتی ہے، وہ شرعا سود نہیں، بلکہ اجرت (تنخواہ) ہی کا ایک حصّہ ہے، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔ البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس میں تشبہ بالربوا بھی ہے اور ذریعہ سود بنا لینے کا خطرہ بھی ہے؛ اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔“
(پراویڈنٹ فنڈ پر زکاۃ اور سود کا مسئلہ، ج:3، ص:258، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100511
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن