
”وعدہ، عہد“ اور ”معاہدہ“ ان تین الفاظ کا ایسا واضح تعارف بمع مثالوں اور احکاماتِ شرعیہ کے کرادیں کہ تینوں چیزیں بمع احکامات کے بالکل دودھ کا دودھ پانی کا پانی کی طرح ہو کر مجھے ذہن نشین ہوجائے کیونکہ مجھے اپنے معاملات کے دوران اکثر ان تینوں میں خلط ملط ہوجانے سے بڑی ذہنی کوفت اٹھانی پڑتی ہے؟
عمل کے اعتبار سے تینوں ضروری اور لازم ہیں، البتہ اصطلاحی اعتبار سے عہد اور معاہدہ ایک ہی ہے، یعنی یہ ایسے قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے، جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہے، یعنی اس کا وجوب دیانتاً وقضاء ہے، باقی وعدہ ایک جانب سے کسی چیز کے کرنے کا عہد وپیمان ہے، اگر اس کو کسی عذر کی بناء وعدہ والی چیز کو پورا نہ کیا جائے تو اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
بیان القرآن میں ہے:
”ف: عہد میں تمام احکام الٰہی اور تمام عقود جو فیما بین العباد ہیں داخل ہوگئے چانچہ کبیر میں ہے: كل عقد تقدم لاجل توثيق الأمر وتوكيده فهو عهد اور خازن میں ایسی تفسیر کی ہے کہ وعدہ کو بھی شامل ہے وہ یہ ہے: قيل اراد بالعهد ما يلتزمه الانسان علي نفسه لیکن وعدہ کا وجوب دیانۃً ہوگا قضاءً نہیں اور مشروع کی قید سے غیر مشروع نکل گئے اور نیز وجوب وفائے وعدہ میں دوسرے دلائل سے عدم عذر کی بھی قید ہے اور عذر میں وجوب ساقط ہے۔“
(سورۃ بنی اسرائیل، ج:2، ص:377، ط:رحمانیۃ)
معارف القرآن میں ہے:
”عہد اس قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہوتا ہے، بخلاف وعدہ کے کہ وہ صرف جانب واحد سے ہوتا ہے، یعنی عہد عام ہے اور وعدہ خاص ہے۔“
(سورۃ آل عمران، ج:2، ص:94، ط:مکتبۃ معارف القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100941
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن