بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وعدۂ نکاح کی شرعی حیثیت اور بالغ لڑکی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کاحکم


سوال

 میں نے 2005 میں اپنی بہن سے بات کی تھی کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح آپ کے بیٹے کے ساتھ کرواؤں گا، صرف یہی بات ہوئی تھی ، اس وقت میری بیٹی کی عمر تقریبًا 10 سال تھی، اب جب دونوں بڑے ہوگئے، تو نہ بیٹی راضی ہے، اور نہ میری بیوی اور نہ ہی میرابیٹا، بلکہ میرے بیٹے نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر میں  نے اپنی بہن کو اس گھر میں دیا تو میری بیوی کو تین طلاق ہو۔

اب سوال یہ ہے:

1:اصل ولی والد ہے اگر وہ اپنی بیٹی کو  اس لڑکے کے نکاح میں د ےگا تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟

2:اب نکاح پر کوئی بھی راضی نہیں ہے تو کیا اس قول کی وجہ سے اب نکاح کراناضروری ہے؟ جبکہ وہ لوگ اس رشتے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور نہ دینے کی صورت میں قطع تعلقی کا  کہتے ہیں۔

جواب

1:صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی کے والد اپنی بیٹی کا نکاح اپنی بہن کے بیٹے سے کرائیں تو اس صورت میں بیٹے کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لیکن چونکہ لڑکی عاقلہ و بالغہ ہے اور وہ نکاح کے لیے راضی نہیں، اس لیے والد کے لیے اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرانا جائز نہیں۔

2:سائل نے اپنی بہن سے صرف زبانی یہ کہا تھا کہ میں اپنی بیٹی آپ کے بیٹے کو دوں گا، یہ محض آئندہ کے لیے رشتہ کرنے کا وعدہ تھا، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوا تھا۔البتہ کوئی شرعی عذر مانع نہ ہوتو وعدہ کو مکمل کرنا چاہیے ،البتہ اگر کسی شرعی عذر کی بنیاد پر لڑکی یا گھر والے اس رشتے پر راضی نہ ہوں تو باہمی صلاح مشورے سے حکمت کے ساتھ انہیں بتادیا جائے کہ ہم یہ رشتہ قائم نہیں کرسکتے ، اور اپنے اعذار ان کے سامنے رکھ دیں ، محض رشتہ نہ دینے کی وجہ سے قطع تعلقی کردینا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌ويحنث ‌بفعله ‌وفعل ‌مأموره) لم يقل وكيله لأن من هذا النوع الاستقراض والتوكيل به غير صحيح (في النكاح) لا الإنكاح...

وفي الرد:(قوله لا الإنكاح) أي التزويج، فلا يحنث به إلا بمباشرته وهذا في الولد الكبير أو الأجنبي لما في المختار وشرحه حلف لا يزوج عبده أو أمته يحنث بالتوكيل والإجازة لأن ذلك مضاف إليه متوقف على إرادته لملكه وولايته وكذا في ابنه وبنته الصغيرين لولايته عليهما وفي الكبيرين، لا يحنث إلا بالمباشرة لعدم ولايته عليهما فهو كالأجنبي عنهما فيتعلق بحقيقة الفعل اهـ ومثله في الزيلعي والبحر في آخر الباب الآتي بلا حكاية خلاف فقول القهستاني وعن محمد: لا يحنث في الكل رواية ضعيفة."

(‌‌كتاب الأيمان‌‌، باب اليمين في البيع والشراء والصوم والصلاة وغيرها، ج:3، ص:815، ط:سعيد)

وفيه أيضًا:

"(‌ولا ‌تجبر ‌البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ."

(کتاب النکاح، باب الولی،ج:3، ص:58، ط:سعید)

وفيه أيضًا:

(قوله وصلة الرحم واجبة) نقل القرطبي في تفسيره اتفاق الأمة على وجوب صلتها وحرمة قطعها للأدلة القطعية من الكتاب والسنة على ذلك قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتها قال قوم: هي قرابة كل ذي رحم محرم وقال آخرون. كل قريب محرما كان أو غيره اهـ والثاني ظاهر إطلاق المتن قال النووي في شرح مسلم: وهو الصواب واستدل عليه بالأحاديث. نعم تتفاوت درجاتها ففي الوالدين أشد من المحارم، وفيهم أشد من بقية الأرحام وفي الأحاديث إشارة إلى ذلك كما بينه في تبيين المحارم (قوله ولو كانت بسلام إلخ) قال في تبيين المحارم: وإن كان غائبا يصلهم بالمكتوب إليهم، فإن قدر على المسير إليهم كان أفضل وإن كان له والدان لا يكفي المكتوب إن أرادا مجيئه وكذا إن احتاجا إلى خدمته، والأخ الكبير كالأب بعده وكذا الجد وإن علا والأخت الكبيرة والخالة كالأم في الصلة، وقيل العم مثل الأب وما عدل هؤلاء تكفي صلتهم بالمكتوب أو الهدية اهـ."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة،‌‌ فصل في البيع، ج:6، ص:411، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100216

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں