بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

وبا کے خاتمے کے لیے اذانوں کا اہتمام


سوال

وبا کے موقع پر اللہ کی پناہ کے لیے اور وبا سے نجات کے لیے پانچ وقت کی اذان کے علاوہ کسی وقت اذان کا اہتمام کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

وبا یا طاعون وغیرہ کے خاتمے کے لیے اذان دینا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے، نیز فقہائے احناف سے بھی اس موقع پر اذان دینے کے بارے میں کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں  مصائب، شدائد اور عمومی پریشانیوں کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت منقول ہے؛ اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہوگی، تاہم یہ اذان مساجد میں نہ دی جائے،  نیز اس انداز سے بھی نہ دی جائے کہ نماز کے لیے اذان ہونے کا اشتباہ ہو۔ حکم کے اعتبار سے یہ اذان مسنون یا مستحب نہیں ہے، بلکہ مباح ہے، بشرطے کہ اسے لازم یا سنت نہ سمجھا جائے اور اس کے لیے کسی مخصوص ہیئت اور  اجتماعی کیفیت کا التزام نہ کیا جائے۔

جامعہ ہٰذا کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

’’سوال:

کسی عظیم حادثے کے نازل ہونے کے بعد مسجدوں میں رات کے وقت اذانیں دی جائیں؛ تاکہ اس کی برکت سے بلا رفع ہوجائے، کیا اس کا کوئی شرعی ثبوت ہے؟

جواب:

صورتِ مسئولہ میں احناف سے اس بارے میں کوئی روایت منقول نہیں، البتہ شوافع کے اقوال سے مسنون معلوم ہوتاہے، جس پر علامہ شامی رحمہ اللہ نے کہاہے کہ ایسے مواقع پر اذان دی جائے تو ہمارے نزدیک بھی اس کی گنجائش ہے؛ لما في رد المحتار:

’’ولا بعد فيه عندنا...‘‘ الخ (کتاب الصلاة، باب الأذان، مطلب في المواضع التي یندب لها الأذان في غیر الصلاة، (1/385) ط: سعید)

البتہ یہ اذان مسجدوں میں نہ دی جائے؛ تاکہ اذانِ صلاۃ کے ساتھ التباس نہ ہوجائے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: محمد عبدالسلام چاٹ گامی                                                                       الجواب صحیح: ولی حسن‘‘

فتاوی شامی میں ہے :

" مطلب في المواضع التي يندب لها الأذان في غير الصلاة

(قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فيه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه في الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه في فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر في التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد في شرعة الإسلام لمن ضل الطريق في أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي في شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن في أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة في ذلك فراجعه. اهـ". (1/385،باب الاذان، ط: سعید )

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2 / 547):
"وخرج بها الأذان الذي يسن لغير الصلاة كالأذان في أذن المولود اليمنى، والإقامة في اليسرى، ويسن أيضًا عن الهم وسوء الخلق لخبر الديلمي، «عن علي: رآني النبي صلى الله عليه وسلم حزينًا فقال: (يا ابن أبي طالب إني أراك حزينًا فمر بعض أهلك يؤذن في أذنك، فإنه درأ الهم) قال: فجربته فوجدته كذلك». وقال: كل من رواته إلى علي أنه جربه، فوجده كذلك. وروى الديلمي عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «من ساء خلقه من إنسان أو دابة فأذنوا في أذنه» )".

کفایت المفتی میں ہے :

’’سوال : دفع وباء کے لیے اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟ تنہا یا گروہ کے ساتھ مسجد میں یا گھر میں؟

جواب : دفع وباء کے لیے اذانیں دینا تنہا یا جمع ہوکر بطور علاج اور عمل کے مباح ہے، سنت یا مستحب نہیں‘‘۔  (۳ / ۵۲، دار الاشاعت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں