
ہمارا بڑا بھائی والد صاحب سے 15 سال تک بات چیت نہیں کرتا تھا، اور ان کی اجازت کے بغیردکان کا کرایہ وصول کرتا رہا۔ یہاں سے جوفتویٰ لیا تھا اس کے جواب میں بڑے بھائی کا ایسا کرنا ناجائز اور ان کے لیے یہ رقم حلال نہیں تھی، اپنا حصہ رکھ کر تمام ورثاء میں رقم تقسیم کرنا ضروری تھا۔
اب وہ رقم بھی ورثاء میں تقسیم نہیں کرتے، والد کے انتقال کے بعد وراثت تقسیم نہیں کرتا اور ان کے حصے میں ایک کروڑ 20 لاکھ آتے ہیں، جب کہ دو کروڑ کی پراپرٹی پر بیٹھا ہوا ہے، اضافی 80 لاکھ کی پراپرٹی کاکر ایا ادا نہیں کرتا، اس کے باوجود دکان کا کرایہ بھی لے رہا ہے، اور حالاں کہ وہ دکان بھی میرے نام ہے، نہ کسی رشتہ دار کی بات کو ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ والد صاحب کے دوست احباب کی بات مان رہا ہے، دارالافتاء سے جو قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ لیا، اس کو بھی نہیں مان رہا ہے اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دکاندار کو کہا جا سکتا ہے کہ بڑے بھائی کو کرایہ ادا نہ کرو، بلکہ ہمیں ادا کرو۔
تنقیح:
۱۔والد مرحوم کے انتقال کے بعد مذکورہ دکان سمیت ساری جائیداد ورثاء میں تقسیم کی گئی تھی یا نہیں؟
۲۔ سائل مذکورہ دکان کو اپنی دکان کس بنیاد پر کہہ رہا ہے؟
جوابِ تنقیح:
۱۔والد کے انتقال کے بعد کوئی جائیداد ورثاء میں تقسیم نہیں ہوئی سوائےایک گھر کی رقم کے جس کا سوداوالد نے اپنی زندگی میں کیا تھا لیکن رقم وصول نہیں کی تھی، ہم نے اس کی رقم وصول کر کے ورثاء میں تقسیم کی۔
۲۔والد کی زندگی میں ان کی اجازت سے دکان میں نے خود خریدی تھی اور میرے نام پر تھی اور والدکے کہنے پر کرایہ وصول کرتا رہا پھر میرے بیمار ہونے کی وجہ سے دوسرے بھائی وصول کرنے لگے، لیکن ملکیت، تصرف والد کی سمجھی جاتی تھی۔
صورت مسئولہ میں سائل نے والد کی زندگی میں دکان خریدی اور اپنے نام کی، لیکن اس دکان کی ملکیت اور تصرف والد ہی کا سمجھا جاتا تھا، تو صرف والد کی اجازت سے خریدنے سے سائل اس دکان کا مالک شمار نہیں ہوگا، بلکہ والد کی ملکیت شمار ہوگی اور والد کی اجازت سے کرایہ خود وصول کرنے سے بھی ملکیت نہیں آتی، لہٰذاوالد کے انتقال کے بعد یہ دکان بھی والد کا ترکہ شمار ہوگی، ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کی بقدر تقسیم کرنا ضروری ہے، دکان چوں کہ تمام ورثاء کا حق ہے اس لیےاگر بھائی فتوی دیکھنے کے بعد اور بڑوں کے سمجھانے کے باوجود بھی بھائی حصہ نہیں دے رہا ہے، تو ورثاءاگر چاہیں تو عدالت سے رجوع کر کے اپنا حصہ وصول کر سکتے ہیں، لیکن اگر کسی وجہ سے عدالت سے بھی رجوع ممکن نہ ہو توسائل اور دیگر ورثاء کا کرائے دار کو یہ کہناکہ مکمل کرایہ بھائی کو نہ دو، بلکہ ہمارا حصہ ہمیں دو، یہ جائز ہوگا۔
سنن ابن ماجہ میں ہے :
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لصاحب الحق: "خذ حقك في عفاف، واف أو غير واف."
(أبواب الديون، باب حسن المطالبة وأخذ الحق في عفاف، ص: 513، رقم: 2398، ط: دار الصديق للنشر، الجبيل - السعودية)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب حق سے ارشاد فرمایا: اپنا حق عفاف و تقوی سے لو ، پورا ہو یا نہ ہو۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا تصرف في المغصوب وربح فهو على وجوه ..... قال مشايخنا لا يطيب له بكل حال أن يتناول منه قبل أن يضمنه وبعد الضمان لا يطيب الربح بكل حال وهو المختار والجواب في الجامعين والمضاربة يدل على ذلك واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام."
(كتاب الغصب، الباب الثامن فى تملك الغاصب والانتفاع به، ج:5، ص:141، ط:مكتبه رشيديه)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب يعذر بالعمل بمذهب الغير عند الضرورة
(قوله: وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفًا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا؛ فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا: إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق."
(كتاب السرقة، ج: 4، ص: 95، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"والربح في شركة الملك على قدر المال."
(مطلب فیما یبطل الشرکۃ، ج: 4، ص: 316، ط: سعید)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدًا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضًا لم يجز؛ لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولاتجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس."
(حرف الألف، استيفاء، استيفاء حقوق العباد المالية، استيفاء الحق من مال الغير بصفة عامة، ج:4، ص: 153، ط: طبع الوزارة)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص27، ط: دار الجیل)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره."
(کتاب الشرکة، ج: 2، ص: 301، ط: رشیدیة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100865
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن