بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن اور بیٹی کو شادی کے بعد دیے گئے ہدایا کومیراث شمار کیا جائے گا؟


سوال

میرے والد نے اپنی حیات میں مجھے ایک بکری دی تھی،میں نے شادی کے بعد کچھ عرصہ شوہر سمیت اپنے بھائیوں کے گھر میں گزارا،اسی طرح میرا بیٹا بیمار ہواتھاتو والد محترم نے اس پر ایک گاۓ نذر مانی تھی،جب میرا بیٹا ٹھیک ہوا تو میرے والد نےوہ گاۓ صدقہ کی تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ازروۓشرع والد کی یہ بکری دینا،بھائیوں کے ساتھ کچھ عرصہ ان کے گھر میں رہنااور والد کا میرے بیٹے پر گاۓ صدقہ کرناکیا یہ چیزیں شرعاً میرے لیے میراث میں سے شمار ہوسکتی ہیں؟

جب والد کی وفات ہوئی تو اس وقت ہم دو بہنیں،تین بھائی اور ایک ہماری والدہ زندہ تھیں،پھر والدہ کا بھی انتقال ہوا،اب کیا مجھے شریعت کی رو سے میراث ملے گی یا والد صاحب نے اپنی زندگی میں جو دیاوہی میراث شمار ہوگا؟

 دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے بھائی مذکورہ اشیاء کو میراث سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی بہن کا حصہ ان کو دےدیااور ایک دوسرے کے حق میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے بہن کا حصہ دےدیاہے،تو کیا از روۓ شریعت  بھائیوں کی یہ گواہی دیناجائزہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائلہ کے والد نے سائلہ کو جو بکری اپنی زندگی میں دی تھی،یا سائلہ کے بیٹےکی شفایابی پر اپنی زندگی میں جو گاۓ صدقہ کی تھی،یہ سب والد کی طرف سے تبرع واحسان ہے، اسی طرح سائلہ شادی کے بعد اپنے شوہر سمیت بھائیوں کے پاس جتنا عرصہ رہی ہے،یہ بھائیوں کی طرف سے سائلہ پر تبرع واحسان ہے، لہذا ان چیزوں کو والد کے ترکہ میں سے شمار کرکے سائلہ کو اس کے حق سے محروم کرناجائزنہیں، بلکہ دیگر تمام ورثاء کی طرح سائلہ کا والد مرحوم کے ترکہ میں اپنا شرعی حصہ ہے۔

جیسا کہ لکھاگیاہے کہ یہ چیزیں والد اور بھائیوں کی طرف سے سائلہ پر تبرع واحسان ہے،اس کو ترکہ میں سے شمار کرناجائزنہیں،لہذا اگر سائلہ کے بھائی اس مسئلہ سے لاعلمی کی بناء یہ گواہی دے رہے ہیں کہ ہم نے بہن کاحصہ اداکردیاہے،تو شریعت کا اصل مسئلہ ان کے سامنے آگیاہے اور اگر اس کے باوجود بھی وہ کہیں کہ ہم نے بہن کاحصہ اداکردیاہےتو یہ شرعاً حق تلفی ہے اور حرام ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن خريم بن فاتك قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فلما انصرف قام قائما فقال: «عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله» ثلاث مرات. ثم قرأ: (فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به). رواه أبو داود وابن ماجه"

(کتاب الإمارۃ والقضاء، باب الاقضیة والشهادۃ،الفصل الثاني،ج:2،ص:1115،ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ”اور حضرت خریم بن فاتک کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو (صحابہ رضی اللہ عنہم سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ الفاظ فرمائے کہ ’’جھوٹی گواہی شرک باللہ کے برابر کی گئی ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطورِ دلیل) یہ آیت تلاوت فرمائی((فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ.))(بتوں کی پرستش) سے بچو اور جھوٹ بولنے سے اجتناب کرو، کیوں کہ تم باطل سے حق کی طرف رجوع کرنے والے ہو نہ کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہو۔“

تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں ہے:

"المتبرع ‌لا ‌يرجع بما تبرع به على غيره."

(كتاب المداينات، ج:2، ص:226، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں