بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کانابالغ بچوں کے مال میں تصرف کرنے کا حکم


سوال

 میں اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنے بچوں کے نام پرکر رہا ہوں ،ابھی میرے بچے نا بالغ ہیں تو جو حصہ میں ان کے نام پرکر لوں، کیا میں اس کو ان کے فائدے کے لیے استعمال کر سکتا ہوں تاکہ بچوں کو اور فائدہ ہو جائے؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سائل  اپنی جائیداداپنے نابالغ بچوں کو ہبہ کرنا چاہتاہے تو یہ جائزہے ،بطور ہبہ کے ان کےنام کرنے سے وہ مالک بن جائیں گے ،اوروالدکے لیےبچوں کے مفاد میں اس جائیداد کو استعمال کرنا جائز ہوگا ۔

البتہ زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائیدادکی تقسیم میں شرعاً برابری کرنا ضروری ہے یعنی جتناحصہ بیٹے کو دیں اتناہی بیٹی کو بھی دیاجائے ،بلا کسی شرعی وجہ  کے کمی بیشی کرنے سے والد گناہ گار ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"باع الأب ضيعة أو عقارا لابنه الصغير بمثل قيمته فإن كان الأب محمودا أو مستورا عند الناس يجوز وإن كان مفسدا لا يجوز وهو الصحيح."

(الباب الرابع عشر في المرابحة والتولية والوضيعة ج:3 ص173 ط:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

تنویرالابصارمع الدرالمختار میں ہے:

"(والولاية في مال الصغير) (إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه) إذ الوصي يملك الإيصاء."

(کتاب الوکالۃ  ج:5 ص:528-529 ط:ايچ ايم سعید )

فتاوی شامی میں ہے :

"قال في جامع الفصولين في 27 ولهم الولاية في الإجارة في النفس والمال والمنقول والعقار، فلو كان عقدهم بمثل القيمة أو يسير الغبن صح لا بفاحشه."

(کتاب الوکالۃ  ج:5 ص:529 ط:ايچ ايم سعید )

مجلة الأحكام العدلية میں ہے:

"‌يملك ‌الصغير ‌المال ‌الذي ‌وهبه ‌إياه وصيه أو مربيه يعني من هو في حجره وتربيته سواء أكان المال في يده أم كان وديعة عند غيره بمجرد الإيجاب أي بمجرد قول الواهب: وهبت ، ولا يحتاج إلى القبض."

(‌‌کتاب الہبہ الباب الأول: بيان المسائل المتعلقة بعقد الهبةص:164،ط: نورمحمد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں