
کیا والدہ کو حج کرانے کے لئے رقم ان کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے؟
صورتِ مسئولہ میں والدہ کے ہاتھ میں حج کی رقم دینا ضروری نہیں،متعلقہ ایجنٹ یا کمپنی کو آن لائن ادائیگی کافی ہے ، کیوں کہ مقصود حج کرانا ہےاور وہ کسی بھی طریقے سے پورا ہو جاتا ہے۔
البتہ والدہ کو اپنی زکاۃ کی رقم دینا یا اپنی زکاۃ کی رقم سے انہیں حج کروانا ،جائز نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"وكذلك حكم الحق الثابت في المحل عرف هذا فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء."
(کتاب الدعوٰی، فصل فی بیان حکم الملک و الحق الثابت فی المحل، ج :6، ص :263، ط :سعید)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :
"ولا يخفى أن وصي الميت إذا امتنع عن القيام بالوصية إلا بأجر لا يجبر على العمل لأنه متبرع ولا جبر على المتبرع."
(کتاب الوصایا، باب الوصی، ج :6، ص :713، سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102154
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن