بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کو حج کرانے کے لئے رقم ان کے ہاتھ میں دینا ضروری نہیں


سوال

کیا والدہ کو حج کرانے کے لئے رقم ان کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  والدہ کے ہاتھ میں حج کی رقم دینا ضروری نہیں،متعلقہ ایجنٹ یا کمپنی کو آن لائن ادائیگی کافی ہے ، کیوں کہ مقصود حج کرانا ہےاور وہ کسی بھی طریقے سے پورا ہو جاتا ہے۔

البتہ والدہ کو اپنی زکاۃ کی رقم دینا یا اپنی زکاۃ کی رقم سے انہیں حج کروانا ،جائز نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وكذلك حكم الحق الثابت في المحل عرف هذا فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء."

(کتاب الدعوٰی، فصل فی بیان حکم الملک و الحق الثابت فی المحل، ج :6، ص :263، ط :سعید)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"ولا يخفى أن وصي الميت إذا امتنع عن القيام بالوصية إلا بأجر لا يجبر على العمل لأنه متبرع ولا جبر على المتبرع."

(کتاب الوصایا، باب الوصی، ج :6، ص :713، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں