بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وعدہ خلافی کا حکم


سوال

ہم پانچ بھائیوں نے تحریری طور پر عہد کیا تھا کہ آپس کے معاملات کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں علماء کی راہ نمائی سے انجام دیں گے، اب بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ علماء کو کیا پتا ہے، ہم سرداروں سے رسم و رواج کے مطابق فیصلہ کروائیں گے، اس معاملے میں شریعت کی راہ نمائی کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر بھائیوں نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم آپس کے معاملات کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں علماء کی راہ نمائی سے انجام دیں گے، اب اگر اس عہد سے رو گردانی کرتے ہوئے علماء کے بجائے سرداروں سے معاملات حل کروائیں گے تو اس کو وعدہ خلافی اور  عہد شکنی کہا جائے گا اور ایسا کرنا سخت گناہ ہو گا، اس لیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

باقی سرداروں سے فیصلہ کروانے کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر ان کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق ہوں اور ان میں کوئی غیر شرعی بات نہ ہو تو ان سے فیصلہ کروانا اور اس کے مطابق عمل کرنا جائز ہو گا، لیکن اگر ان کا فیصلہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہو یا ان کا فیصلہ شرع کے اصولوں سے ٹکراتا ہو تو ان سے فیصلہ کروانا بھی جائز نہیں ہو گا اور اس کے مطابق عمل کرنا بھی درست نہیں ہو گا۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن علي رضي الله عنه قال:بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية، وأمر عليهم رجلا من الأنصار، وأمرهم أن يطيعوه، فغضب عليهم، وقال: أليس قد أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى، قال: قد عزمت عليكم لما جمعتم حطبا وأوقدتم نارا، ثم دخلتم فيها. فجمعوا حطبا، فأوقدوا، فلما هموا بالدخول، فقام ينظر بعضهم إلى بعض، قال بعضهم: إنما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فرارا من النار، أفندخلها؟ فبينما هم كذلك إذ خمدت النار، وسكن غضبه، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: (لو دخلوها ما خرجوا منها أبدا، ‌إنما ‌الطاعة ‌في ‌المعروف)."

(کتاب الأحکام، باب: السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية، ج:6، ص:2612، دار اليمامة- دمشق)

ترجمہ: 

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت   روانہ فرمائی اور ان پر ایک انصاری شخص کو امیر  مقرر کیا، اور صحابہ کو حکم دیا کہ اس کی اطاعت کریں، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو ایک موقع پر وہ امیر ان سے ناراض ہو گیا، اور اس نے کہا:  کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا؟ لوگوں نے کہا: "کیوں نہیں۔" تو اس نے کہا: "میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرو، اور آگ جلاؤ، پھر اس میں داخل ہو جاؤ!" چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی،  پھر جب وہ اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرنے لگے، تو ان میں سے کچھ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے،  ان میں سے ایک نے کہا: "ہم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیروی اس لیے کر رہے ہیں کہ جہنم کی آگ  سے بچیں، تو کیا اب خود ہی اس میں داخل ہو جائیں؟"  اسی دوران جب وہ یہ سوچ و بچار کر رہے تھے، تو آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ختم ہو گیا۔ پھر جب یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:   "اگر وہ اس آگ میں داخل ہو جاتے تو کبھی بھی اس سے باہر نہ نکلتے، اطاعت صرف نیکی اور معروف کے کام میں ہوتی ہے۔"

حدیث شریف میں ہے:

"عن قتادة عن أنس بن مالك قال: قلما خطبنا نبينا صلى الله عليه وسلم، أو قال: النبي صلى الله عليه وسلم، إلا قال في خطبته: " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له."

( السنن الكبرى للبيهقي ، باب ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات، ج: 6، صفحہ: 471، رقم الحدیث: 12690، ط:  دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

ترجمہ:"انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ہمیں خطبہ دیتے، یا فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی خطبہ دیا، تو فرمایا: جس میں امانت داری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پاسداری نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔"

وفیہ ایضاً:

"حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."

(صحیح البخاری، باب علامة المنافق، ج: 1، ص: 16، رقم الحدیث: 33، ط: دار طوق النجاة) 

ترجمہ: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔"

الأشباه والنظائر میں ہے:

"الخلف في الوعد حرام، كذا في أضحية الذخيرة."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ص: 247، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609102047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں