بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ووٹ کی خریدوفروخت/پیسوں کے بدلے اگر ووٹ اسی امیدوار کو نہ دیا تو اپنی بیوی کو طلاق دینے کی قسم کھانے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں کچھ امیدوار ایسے ہیں جو عوام سے کہتے ہیں کہ ووٹ مجھے دینا ہے اس کے بدلے میں، میں تمہیں اتنے اتنے پیسے دوں گا۔

پیسے دیتے وقت ان سے اس طرح حلف لیتے ہیں کہ: تم خود کہو کہ اگر میں نے تجھے اپنا ووٹ نہیں دیا،یا میں نے تیرے نام پر ووٹ نہیں ڈ  الا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں ،حلف کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قرآن پر ہاتھ رکھواتے ہیں کہ مجھے ووٹ دینا ہے، اس کے بعد پیسے دیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے1: کہ کیاووٹ فروخت کرنا یا خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

2: ووٹ خریدتے وقت اس طرح کا حلف لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1:واضح رہےکہ کسی امیدوار کو ووٹ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر امیدوار کو اپنا نمائندہ بنا کر ایوان میں بھیجنے کی سفارش کرتا ہے، لہذا جس شخص کو ووٹ دیا جائے اس میں ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہےاوریہی صلاحیت ووٹ دینے کا معیارہے،کسی لالچ، خوف یا معاوضہ کی بنا پر ووٹ دینا درست نہیں اور غیر مستحق یا ایسے شخص کو ووٹ دینا جس میں اقتدار کی ذمہ داریاں اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے قومی خیانت ہے۔ نیز ووٹ میں شہادت یعنی گواہی کا معنی بھی موجود ہے کہ ایک ووٹر جب کسی کو ووٹ دیتا ہے تو گویا اس بات کی گواہی دیتا ہےکہ یہ شخص ایوان میں جا کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

مذکورہ تمہید سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ووٹ کو بیچنایعنی کسی خاص امیدوار کو ووٹ دینے کے عوض کچھ رقم وغیرہ وصول کرنا شرعاً حرام ہے۔

2:صورت مسئولہ میں   ایک ساتھ تین طلاقیں دینا یا تین  معلق طلاقیں دینا  دونوں ہی شرعاً ناجائز ہے،لہذا اس طرح کی قسم لینا شرعاً جائز نہیں ہے،البتہ اگر کوئی یہ کہتاہے کہ" اگر میں نے تجھے اپنا ووٹ نہیں دیا،یا میں نے تیرے نام پر ووٹ نہیں ڈ  الا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں " تو اس جملے کا حکم یہ ہے ان الفاظ کا کہنے والا اگر ساری زندگی میں ایک مرتبہ بھی اس امیدوار کو ووٹ دےگاتو وہ اپنے قسم سے بری ہوجاۓ گا اور اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،البتہ اگر یہ قسم  اٹھانے والا ساری زندگی میں اس کو ووٹ نہ دے  اور اس کاانتقال ہوجاۓ تو زندگی کے آخری وقت میں یعنی جب اس پر موت کے آثار شروع ہوجائیں تو اس کی بیوی پر   تین طلاقیں واقع ہوجائیں  گی،یا اگر وہ امیدوار اس ووٹر سے پہلے مرجاتاہے اور  اس کو ووٹ نہیں  دیا یا اس شخص (حالف)کی بیوی پر جب موت کے آثار شروع ہوجائیں تو  بیوی کی زندگی کے آخری لمحات میں اس پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔قرآن پاک  پر ہاتھ رکھوانے کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر محض قرآن پاک پر ہاتھ رکھوایاجاتاہواور زبان سے قسم کے الفاظ نہیں لیے جاتے ہوں تو یہ شرعی قسم نہیں ہے،اس کے بعد اگر قرآن پر ہاتھ رکھنے والا کسی ا ور شخص کو ووٹ دےگاتو اس پر کوئی کفارہ نہیں آۓگااور اگر قرآن کریم پر ہاتھ رکھواتے وقت اس نے قسم کے الفاظ زبان سے بھی کہے ہو تو اس صورت میں اگر وہ کسی اور کو ووٹ دے گا تو اس پر قسم کا کفارہ آۓ گا۔

اس طریقہ پر ووٹ مانگنے والے امیدوار کو بتادیا جائے کہ اس طرح کا حلف لینا اسلام میں درست نہیں، لہذا میں اس طرح کا حلف نہیں اٹھاسکتا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ثم التعليق في الملك كما يصح بشرط الوجود يصح بشرط العدم؛ لأن الشرط علامة محضة والعدم يصلح علما محضا فيصلح شرطا غير أنه إن وقت ينزل المعلق عند انتهاء ذلك الوقت وإن أطلق لا ينزل إلا في آخر جزء من أجزاء حياته، بيان ذلك: إذا قال لامرأته: ‌إن ‌لم أدخل هذه الدار فأنت ‌طالق، أو قال: ‌إن ‌لم آت البصرة فأنت ‌طالق لا يقع الطلاق إلا في آخر جزء من أجزاء حياته، لأنه علق الطلاق بعدم الدخول والإتيان مطلقا ولا يتحقق ذلك إلا في ذلك الوقت، وعلى هذا يخرج ما إذا قال لامرأته: أنت ‌طالق ‌إن ‌لم أطلقك أنه لا يقع الطلاق عليها ما لم يثبته إلى آخر جزء من أجزاء حياته؛ لأنه علق الطلاق بشرط عدم التطليق مطلقا، والعدم المطلق لا يتحقق إلا في ذلك الجزء"

(كتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة،ج:3،ص: 131،ط:دارالكتب العلمية بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أنت طالق ما لم أطلقك أو متى لم أطلقك أو متى ما لم أطلقك وسكت طلقت) للحال بسكوته (وفي إن لم أطلقك لا) تطلق بالسكوت بل يمتد النكاح (حتى يموت أحدهما قبله) أي قبل تطليقه فتطلق قبيل الموت لتحقق الشرط ويكون فارا.

(وإذا ما وإذا بلا نية مثل إن عنده و) مثل (متى عندهما) وقد مر حكمها. (وإن نوى الوقت أو الشرط اعتبرت) نيته اتفاقا ما لم تقم قرينة الفور فعلى الفور. (قوله لا تطلق بالسكوت إلخ) لأن شرط البر تطليقه إياها في المستقبل، وهو ممن في كل وقت يأتي ما لم يمت أحدهما فيتحقق شرط الحنث وهو عدم التطليق، وهذا عند عدم النية أو دلالة الفور كما يأتي في إذا (قوله حتى يموت أحدهما) أشار به إلى أن موته كموتها وهو الصحيح خلافا لرواية النوادر، بخلاف قوله إن لم أدخل الدار فأنت طالق حيث يقع بموته لا بموتها لأنه بعد موتها يمكنه الدخول فلا يتحقق اليأس بموتها فلا يقع، أما الطلاق فإنه يتحقق اليأس عنه بموتها فتح    قوله وإن نوى الوقت أو الشرط إلخ) قال في البحر: وقيدنا بعدم النية لأنه لو نوى بإذا معنى متى صدق اتفاقا قضاء وديانة لتشديده على نفسه، وكذا إذا نوى بإذا معنى إن على قولهما، وينبغي أن يصدق عندهما ديانة فقط لأنها عندهما ظاهرة في الظرفية والشرطية احتمال فلا يصدقه القاضي اهـ والبحث أصله لصاحب الفتح، وانظر لو نوى بأن الفور هل يصح: الظاهر نعم؛ كما لو قامت قرينة عليه."

(کتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:3،ص: 269،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر"

(کتاب الطلاق،رکن الطلاق،ج:3،ص: 232،ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال، فلا ينعقد بيع الحر؛ لأنه ليس بمال، وكذا بيع أم الولد."

(کتاب البیوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5، ص: 140، ط:دارالکتب العلمية بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب: لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن؛ ولذا لا يضمن بإتلاف شيء من الغنيمة أو وطء جارية منها قبل الإحراز؛ لأن الفائت مجرد الحق وإنه غير مضمون، وبعد الإحراز بدار الإسلام، ولو قبل القسمة يضمن لتفويت حقيقة الملك ويجب عليه القيمة في قتله عبدا من الغنيمة يعد الإحراز في ثلاث سنين بيري، وأراد بقوله لتفويت حقيقة الملك الحق المؤكد إذ لا تحصل حقيقة الملك إلا بعد القسمة كما مر. (قوله: كحق الشفعة) قال في الأشباه: فلو صالح عنها بمال بطلت ورجع، ولو صالح المخيرة بمال لتختاره بطل ولا شيء لها ولو صالح إحدى زوجتيه بمال لتترك نوبتها لم يلزم ولا شيء لها وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف في الأوقاف وخرج عنها حق القصاص وملك النكاح وحق الرق فإنه يجوز الاعتياض عنها كما ذكره الزيلعي في الشفعة، والكفيل بالنفس إذا صالح المكفول له بمال لا يصح ولا يجب، وفي بطلانها روايتان، وفي بيع حق المرور في الطريق روايتان وكذا بيع الشرب إلا تبعا."

(کتاب البیوع، ج:4، ص: 518، ط:سعید)

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ تقسیمِ ہند سے قبل ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

’’ہندوستان کی حالت بہت نازک ہے انتخاب کا معاملہ بہت سخت ذمہ داری کا ہے رائے دینے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس شخص کو رائے دیں جو نیک اور سمجھدار اور ملک و قوم کا خیر خواہ ہو روپیہ لے کر غیر مستحق کو رائے دینا حرام اور ملک و قوم کی خیانت و غداری ہے اور مستحق کو پیسہ لے کر رائے دینا رشوت ہے اگر مستحق کو  رائے دینے والا خود پیسہ نہ مانگے اور وہ خود دے دے تو خیر مباح ہوسکتا ہے لیکن غیر مستحق کو رائے  دینا کسی طرح بھی حلال نہیں ۔‘‘

( کفایت المفتی، کتاب السیاسات، تیسرا باب: سیاست ملکی و ملی،9/352، ط: دار الاشاعت)

فتاویٰ بینات میں مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ کے ایک فتویٰ میں ہے:

’’ ووٹ کی حیثیت شرعاً شہادت اور توکیل کی ہے، شہادت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ووٹر جب کسی کو ووٹ دیتا ہے تو گویا اس کے دین ، اخلاق ، اصابت رائے ، صلاحیت و صالحیت کی شہادت دیتا ہے اب اگر امید وار صفات مذکورہ کا حامل ہے تو ووٹر کی شہادت صحیح ہے اور وہ مستحق اجر ہے اور اگر امید وار مندرجہ بالا صفات کا حامل نہیں تو ایسے شخص کو ووٹ دینا شہادت زور ( جھوٹی گواہی ) ہے۔۔۔ووٹ کی دوسری حیثیت تو کیل کی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر امیدوار کو اپنے سیاسی اور دینی امور کا وکیل بنا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ وکیل ایسے ہی شخص کو بنایا جاتا ہے جو با روکالت صیح طور پر اٹھا سکے۔۔۔ووٹ کی خرید و فروخت حرام اور ناجائز ہے،کیوں کہ ووٹ ایک حق ہے اور حق کی خرید و فروخت باطل اور کالعدم ہے۔‘‘

(کتاب الامارۃ والقضاء، ووٹ کی شرعی حیثیت،ج:3،ص:507، ط: مکتبۂ بینات)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"محض قرآن مجید ہاتھ میں لے کربات کہنے سے قسم نہیں ہوجاتی،جب تک لفظِ قسم نہ کہے۔"

(کتاب الایمان والنذور،باب الایمان،ج:14،ص:42،ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں