
۱) ایک قوم و علاقہ والے ووٹوں کے معاملہ میں یا کسی اور معاملہ میں اتفاق اور اتحاد کے لیے اب اہل علاقہ سے حلف لیتے ہیں کہ فلاں کو ووٹ دینا ہے یا فلاں کو کام کرنا ہے تو اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
۲) اگر کوئی ایک بندہ حلف نہیں اٹھاتا اور ان سے اتفاق نہیں کرتا تو پوری قوم والے اس سے قطع تعلق کرتے ہیں تو ان کا یہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
۱) اللہ کے نام پر قسم لے کر ووٹ یا ووٹ کی طرح دیگر معاملات میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کے نام کی تعظیم لازم ہے اور اس طرح کے معاملات میں اللہ کے نام کو درمیان میں ڈالنا سوء ادب ہے۔ نیز ووٹ اور ووٹ کی طرح دیگر معاملات جس میں عرف اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ اپنی صوابدید استعمال کرکے جس شخص کو صالح ، عادل اور دینی اور ملکی امور کے لیے خیر خواہ سمجھے اسے ووٹ دیں یا پھر کسی طرح کا رجحان نہ ہو تو ووٹ نہ دیں ، ایسے معاملہ میں اللہ کے نام کی قسم دے کر لوگوں کو مقید کرنا درست نہیں ہے۔
۲) اس بنیاد پر قطع تعلق کرنا جائزنہیں ہے۔
احکام القران للجصاص میں ہے:
"والوجه الثاني: أن يكون قوله: {عرضة لأيمانكم} يريد به كثرة الحلف، وهو ضرب من الجرأة على الله تعالى وابتذال لاسمه في كل حق وباطل; لأن تبروا في الحلف بها وتتقوا المأثم فيها. وروي نحوه عن عائشة: من أكثر ذكر شيء فقد جعله عرضة، يقول القائل: قد جعلني عرضة للوم. وقال الشاعر:
لا تجعليني عرضة اللوائموقد ذكر الله تعالى مكثري الحلف بقوله: {ولا تطع كل حلاف مهين} [القلم: 10] فالمعنى: لا تعترضوا اسم الله وتبذلوه في كل شيء; لأن تبروا إذا حلفتم وتتقوا المأثم فيها إذا قلت أيمانكم; لأن كثرتها تبعد من البر والتقوى وتقرب من المآثم والجرأة على الله تعالى. فكأن المعنى: إن الله ينهاكم عن كثرة الأيمان والجرأة على الله تعالى لما في توقي ذلك من البر والتقوى والإصلاح فتكونون بررة أتقياء، لقوله: {كنتم خير أمة أخرجت للناس} [آل عمران:110] وإذا كانت الآية محتملة للمعنيين وليسا متضادين، فالواجب حملها عليهما جميعا، فتكون مفيدة لحظر ابتذاله اسم الله تعالى واعتراضه باليمين في كل شيء حقا كان أو باطلا، ويكون مع ذلك محظورا عليه أن يجعل يمينه عرضة مانعة من البر والتقوى والإصلاح وإن لم يكثر، بل الواجب عليه أن لا يكثر اليمين، ومتى حلف لم يحتجر بيمينه عن فعل ما حلف عليه إذا كان طاعة وبرا وتقوى وإصلاحا، كما قال صلى الله عليه وسلم: "من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير وليكفر عن يمينه."
(سورۃ البقرۃ،:ج:1،ص:428،دار الکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101020
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن