بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1448ھ 28 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ووٹ کی شرعی حیثیت


سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج کل ووٹ کسی کو بھی نہیں دینا چاہیے اور وہ الیکشن کے ووٹ کاسٹ نہیں کرتے تو ان کی اس بات کی کیا حیثیت ہے اور ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

ہمارے حلقے میں ایک مذہبی جماعت  کے امیدوار موجود ہیں جو کہ تیس سال سے اپنی  جماعت کی ٹکٹ سے الیکشن لڑتے ہیں عالم تو نہیں ہے مگر باریش اور سنجیدہ آدمی ہے، ترقیاتی کام بھی علاقہ کے لیے اچھے خاصے کیے ہیں، اب اس سال اسی  جماعت  سے ہی چند علماء علیحدہ ہوکر انہوں نے علاقائی اعتبار سے ایک الگ ایک چھوٹی تنظیم بنا کر الیکشن کے لیے کھڑے ہوئے ہیں اور ان کا دعوٰی ہے کہ مولوی کو چھوڑ کر کسی اور کو ووٹ دینا ہرگز درست نہیں ہے، اب عوام کیا کریں؟ مذہبی جماعت  کے نامزد امیدوار کو ووٹ دیں؟ یا علیحدہ جماعت بنانے والے مولوی صاحب کو دیں؟

جواب

 ووٹ دینا  شرعًا ایک جائز امر  ہے،  اس کی شرعی حیثیت ’’رائے دہی‘‘   کی ہے،جو  شخص ووٹ دینے کی اہلیت رکھتا ہو،اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنا ووٹ استعمال کرے، اور اس میں حتی الامکان  دیانت داری کے تقاضوں کو  ملحوظ  رکھے۔

رہی یہ بات کہ کس امیدوار کو  ووٹ دیا جائے؟ تو  اس کا تعین کرنا  ہر شخص کے اپنے ضمیر اور بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ جس شخص یا جماعت کے منشور کو دین اور  ملک وملت  کے مفاد میں زیادہ بہتر سمجھتا ہو،  اُسے ووٹ دے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100256

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں