بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ویزا اور ماسٹر کارڈ کے ذریعہ مخیر حضرات سےعطیہ لینا


سوال

ہم ایک دینی ادارہ چلارہے ہیں،کیا ہم اپنے ادارے میں  ویزااور ماسٹر کارڈ کے ذریعہ عطیہ لے سکتے ہیں جو مخیر حضرات ہمیں دیتے ہیں،اس میں بینک  کچھ فیصد ( 2.4%+FED)چارچز لیتا ہے،کیا اس آمدنی سے ہم ماسٹر اور ویزا کارڈ وغیرہ کمپنیوں کو سپورٹ تو نہیں کررہے؟ جو اضافی رقم ہمارے ڈونر بینک کو دیں گے کیا یہ تو سود نہیں ہوگا؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ ادارہ کو  پہلی کوشش یہی کرنی چاہئے کہ  جس حد تک ممکن ہو  عطیہ وغیرہ کی مدمیں رقم نقدی کی صورت میں وصول کریں  ،اگر کچھ مخیر حضرات کے لئے  نقد رقم جمع کروانے میں دشواری ہو  تو ان حضرات سے  بینک کے(کارڈ وغیرہ) ذریعہ بھی  رقم وصول کرنےکی اجازت ہے،چاہے ماسٹر کارڈ اور ویزاکارڈکے ذریعہ وصول کریں یا کسی اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ وصول کریں ،بینک  کارڈ کے ذریعہ رقم  کی ترسیل میں  چارجز کی مد میں کچھ اضافی  رقم اکاؤنٹ سے وصول کی جاتی ہے، اس میں کچھ تو بینک کی آن لائن    سروس  کےچارچز ہوتے ہیں اور کچھ   وہ ٹیکس ہوتے ہیں جو حکومت بینک کے ذریعہ لوگوں سے وصول کرتی ہے،بہردو صورت یہ چارچز سود شمار نہیں ہوں گےاور اس کی وجہ سے عطیہ کی رقم میں خرابی نہیں آئے گی۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

" وعن النعمان بن بشير - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشتبهات لايعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب» ". متفق عليه.

(وبينهما مشتبهات) : بكسر الموحدة أي: أمور ملتبسة غير مبينة لكونها ذات جهة إلى كل من الحلال والحرام."

(کتاب البیوع باب الکسب و طلب الحلال،5/ 1891،دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام.

(قوله : ‌كل ‌قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة: وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع،  باب المرابحة،  فصل فی القرض ،5/ 166، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں