بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ویڈیوز دیکھ کر پیسے کمانے کا حکم


سوال

ایک ویب سائٹ  ہے،اس  میں لوگ پیسے  انویسٹ کرتے ہیں اور بدلے میں ویڈیوز دی جاتی ہوں جنہیں دیکھ کر پیسےکمایے جاتے ہیں. ویڈیو میں بےحیائی بالكل بھی نہیں ہوتی، ‎‎‎‎ ‎اس کام میں مختلف سطحیں ہیں۔ ‎جیسے میرا لیول دوسرا ہے جہاں میں 18000 کی سرمایہ کاری کرتا ہوں۔ میرا کام روزانہ 5 ویڈیوز دیکھنا ہے، ہر ویڈیو کے پیسے 110 ہیں اور مجھے روزانہ 550 ملتے ہیں ‎تو یہ تقریباً 14000 فی مہینہ بناتا ہے۔ ‎ ‎ویڈیوز کاسمیٹکس، اسپورٹس ،  لباس کے برانڈ، کاروں کی گھڑیاں وغیرہ جیسی کمپنیوں کی ہیں۔‎ ‎جب ہم کسی دوسرے ممبر کو کمپنی میں شامل کرتے ہیں تو ہمیں اس کا انعام ملتا ہے۔ ‎یہ صرف ایک بار کی سرمایہ کاری ہے۔ ‎ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام حلال ہے؟

جواب

 صورت مسئولہ میں بیان کردہ یہ طریقۂ کار شرعا جائز نہیں۔ بظاہر اسے “ویڈیوز دیکھ کر کمائی” کہا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی اسکیم ہے جس میں سرمایہ لگانے کے بدلے مقررہ منافع دیا جاتا ہے، جو سود (ربا) سے مشابہ ہے۔ مزید یہ کہ ویڈیو دیکھنا کوئی معتبر محنت یا منفعت نہیں جس پر اجرت لینا درست ہو، اس لیے یہ اجارہ بھی صحیح نہیں بنتا۔ اس کے ساتھ ریفرل اور لیول سسٹم اسے ملٹی لیول/پائرامیڈ اسکیم بنا دیتا ہے، جس میں عموماً نئے لوگوں کے پیسے پرانے لوگوں میں تقسیم ہوتے ہیں، جو شرعاً “اکلِ مال بالباطل” کے زمرے میں آتا ہے۔لہٰذا مجموعی طور پر یہ کام ناجائز ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"2072 - عن ‌المقدام رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما أكل أحد طعاما قط، خيرا من أن يأكل من عمل يده، وإن نبي الله داود عليه السلام كان يأكل من عمل يده.»"

(‌‌‌‌كتاب البيوع، باب كسب الرجل وعمله بيده، ج:3 ص:57، ط: السلطانية)

مسنداحمد میں ہے:

"17265 - ...عن جده رافع بن خديج، قال: قيل: يا رسول الله، أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده ‌وكل ‌بيع ‌مبرور."

(‌‌‌‌مسند الشاميين، حديث رافع بن خديج، ج:28 ص: 502، ط: الرسالة)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"قوله تعالى: "وإن تبتم فلكم رؤس أموالكم" الآية. روى أبو داود عن سليمان بن عمرو عن أبيه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع:" ألا إن كل ربا من ربا الجاهلية. موضوع فلكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون" وذكر الحديث. فردهم تعالى مع التوبة إلى رؤوس أموالهم وقال لهم:" لا تظلمون" في أخذ الربا" ولا تظلمون" في أن يتمسك بشيء من رؤوس أموالكم فتذهب أموالكم".

(سورة البقرة، ج:3 ص: 365، ط: دار الكتب المصرية)

احكام القرآن للجصاص میں ہے:

"وروى حماد بن سلمة عن قتادة عن حلاس أن رجلا قال لرجل إن أكلت كذا وكذا بيضة فلك كذا وكذا فارتفعا إلى علي فقال هذا قمار ولم يجزه ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة".

(‌‌سورة البقرة، باب تحريم الميسر، ج:2 ص:11، ط: دار إحياء التراث العربي)

حاشية ابن عابدين میں ہے:

"(لا) تصح إجارة الدابة (ليجنبها) أي ليجعلها جنيبة بين يديه (ولا يركبها ولا) تصح إجارتها أيضا (ل) أجل أن (يربطها على باب داره ليراها الناس) فيقولوا له فرس (أو) لأجل أن (يزين بيته) أو حانوته (بالثوب) لما قدمنا أن هذه منفعة غير مقصودة من العين، وإن فسدت فلا أجر؛ وكذا لو استأجر بيتا ليصلي فيه أو طيبا ليشمه أو كتابا ولو شعرا ليقرأه أو مصحفا شرح وهبانية".

(‌كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة، ج:6 ص:34، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100393

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں