
ویڈیو کال کے ذریعے بائع یا مشتری کاعقد کرنا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ ویڈیو کال یا فون کال پر ویڈیو کال تصویر ہی کے حکم میں ہے، اور جاندار کی تصویر اور ویڈیو شرعاً حرام اور ناجائز ہے؛ اس لیے ویڈیو کال جس میں جاندار کی تصویر ہو، وہ بھی شرعاً ناجائز ہے،لہذا صورت مسئولہ میں ویڈیو کال کے ذریعہ خرید و فروخت میں اگر خریدوفروخت کی تمام شرائط کی رعایت رکھی جاتی ہو، تو اس کے ذریعے خرید و فروخت جائز ہوگی، مثلاً: مبیع(بیچی جانے والی چیز) اور ثمن (قیمت) کی مکمل تفصیلات بتائی جائیں، جس سے ہر قسم کی جہالت مرتفع ہوجائے، اور کوئی بھی شرط فاسد نہ لگائی گئی ہو وغیرہ ،البتہ ویڈیو کال میں خرید وفروخت کے دوران بائع یا دیگر جاندار کی تصاویر سے بچنا ضروری ہے،اور تصویر سازی حرام ہے۔
چنانچہ اگر مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو اور خریدنے والا فون کرکے یا موبائل کے ایپ کے ذریعے آرڈر دے کر بائع مشتری کو اس مال کی تصویر دکھلا کر اس پر فروخت کر دے، اور مشتری سے قیمت وصول کرلی جائے تو یہ بیع درست ہوگی،تاہم فون یا ویڈیو کال کے ذریعے بیع صرف اور بیع سلم کے علاوہ باقی تمام قسم کی بیع کرنا جائز ہے،بیع صرف یعنی سونا چاندی مختلف کرنسی کی خرید و فروخت ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیع صرف میں عاقدین کا ایک مجلس میں موجود ہونا ،اور نقد ہونا شرعا ضروری ہے، جب کہ فون یا ویڈیو کال پر ہونے والے سودے میں عاقدین مجلس عقد میں جسمانی طور پر موجود نہیں ہوتے ، اسی طرح بیع سلم میں ثمن کا سودے کے وقت ادا کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ ویڈیو کال پر ہونے والے سودے میں یہ شرط مفقود ہوتی ہے۔
الفقہ الاسلامی میں ہے:
"إذا تم التعاقد بين طرفين في وقت واحد وهما في مكانين متباعدين، وينطبق هذا على الهاتف واللاسلكي، فإن التعاقد بينهما يعتبر تعاقدا بين حاضرين وتطبق على هذه الحالة الأحكام الأصلية المقررة لدى الفقهاء المشار إليها في الديباجة ....... أن القواعد السابقة لا تشمل النكاح لاشتراط الإشهاد فيه، ولا الصرف لاشتراط التقابض، ولا السلم لاشتراط تعجيل رأس المال."
(القرارات، إجراء العقود بآلات الاتصال الحدیثة،7،ص: 5175، ط:دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم."
(کتاب البیوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5ص:138،ط:دار الكتب العلمية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.
فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود......(أما) جهالة المبيع: فلأن العقد في أحدهما بات وفي الآخر خيار ولم يعين أحدهما من الآخر فكان المبيع مجهولا، وأما جهالة الثمن: فلأنه إذا لم يسم لكل واحد منهما ثمنا فلا يعرف ذلك إلا بالحزر والظن فكان الثمن مجهولا والمبيع مجهولا وجهالة أحدهما تمنع صحة البيع فجهالتهما أولى."
(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:5، ص:157، ط:دارا لكتب العلمية)
وفیہ ایضاً:
"وأما حكم البيع .. فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال."
(کتاب البیوع، فصل فی حکم البیع، ج:5، ص:233، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(لا) يصح ... (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه ... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز ... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما ... (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد أفاده ط."
(کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، فصل في التصرف في المبیع الخ، ج:5،ص:147، 148، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريموهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث."
(کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:2،ص:2، ط:دار الکتب الاسلامی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100381
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن