
میرے چار بیٹے ہیں اور چار بیٹیاں ہیں، میں نے اپنی ذاتی محنت و مزدوری سے زمین خرید کر اس پر خود گھر بنایا ہے، جو کہ تقریباً 29 مرلے ہے۔
میں نے 3 بیٹوں کی شادی کرائی ہے، اور ایک بیٹا ابھی رہتا ہے، ساتھ دو بیٹیاں بھی شادی شدہ ہیں۔
شادی شدہ دو بیٹوں نے مشترکہ کاروبار و آمدنی سے تقریباً 10، 10 مرلے پلاٹ خرید کر اس پر گھر بنائے، اور منتقل ہو کر رہائش پذیر ہیں۔
اب میرا ارادہ ہے کہ باقی دو بیٹوں کےلئے اس اپنے ذاتی گھر سے (جو کہ 29 مرلے ہے) 10، 10 مرلے دے دوں، ان دونوں کے یہ 10، 10 مرلے ہو جائیں گے اور ان دونوں کے وہ 10، 10 مرلے ہو جائیں گے، اور باقی 9 مرلے سب آٹھ بہن بھائیوں میں مشترک ہوں گے، بعد میں خود شرعی طور پر تقسیم کریں۔
تو کیا میرے لیے شرعی و اخروی طور پر ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
وضاحت: بھائیوں نے والد صاحب اور سب کی رضامندی سے گھر کے مشترکہ کاروبار سے جگہ بھی خریدی اور مشترکہ کاروبار کے پیسوں سے مکان بنایا بھی، لیکن والد صاحب نے ابھی تک اس کا مکمل قبضہ نہیں دیا ہے بلکہ صرف رہائش کے لیے دیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنے چار بیٹوں کے درمیان مکان تقسیم کرنے کی جو صورت ذکر کی ہے، اس طرح تقسیم کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ زندگی میں اولاد کے درمیان جائے داد تقسیم کرتے ہوئے برابری کرنا شرعاً ضروری ہے، کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کرنا یا کسی کو محروم کرنا غیرمنصفانہ تقسیم ہے جوکہ گناہ کا باعث ہے۔
لہذا اگر سائل اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے تو شرعی ضابطہ کو ملحوظ رکھ کر تقسیم کرے ورنہ تقسیم نہ کرے، شرعی ضابطہ یہ ہے کہ سائل کل جائے داد میں سے سب سے پہلے اپنے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہے رکھ لے تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے اور کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے، اس کے بعد اپنی بیوی کوجتنا دینا چاہے دے دے، بہتر ہے کہ آٹھویں حصے سے کم نہ دے اور پھر باقی ماندہ جائے داد کے آٹھ برابر حصے کرکے ہر ایک بیٹے اور بیٹی کو ایک ایک حصہ دے دے، بلاوجہ کمی بیشی نہ کرے اور نہ ہی کسی کو محروم کرے، البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو دین داری یا زیادہ خدمت گزاری یا ضرورت مندی کی وجہ سے اسے دیگر اولاد کی بنسبت زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، نیز جس کو جو حصہ دینا ہو وہ اس کے حوالے کرنا ضروری ہے، حوالے کیے بغیر محض نام کرنا ملکیت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: "أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا قال: "فأرجعه" . وفي رواية: أنه قال: "أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟" قال: بلى قال: "فلا إذن" . وفي رواية: أنه قال: أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: "أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟" قال: لا قال: "فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم" . قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: "لا أشهد على جور."
(باب العطايا،الفصل الأول، ج: 2،ص: 904،ط: المكتب الإسلامي )
ترجمہ:”حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ “
(مظاہر حق، باب العطایا، ج: 3،ص:193،ط: دارالاشاعت)
شرح معانی الآثار میں ہے :
"قال أبو جعفر: في قول النبي صلى الله عليه وسلم: " سووا بينهم في العطية كما تحبون أن يسووا لكم في البر."
(كتاب الهبة والصدقة، باب الرجل ينحل بعض بنيه دون بعض،ج: 4 ص: 88 ط: عالم الكتب بيروت ))
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."
(كتاب الهبة،الباب السادس في الهبة للصغير،ج4،ص391 ،ط: رشیدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال "سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال" رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ."
( كتاب الوقف،مطلب متى ذكر الواقف شرطين متعارضين يعمل بالمتأخر،ج:4، ص: 444، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102394
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن