بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

وبا کے موقع پر اضافی اذان دینا


سوال

موجودہ صورتِ حال میں اضافی اذان دینا کا کیا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہائے احناف سے کوئی روایت منقول نہیں ہے،  نیز قرآنِ مجید یا کسی حدیث میں بھی اس کا ذکر موجود نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں  مصائب ، شدائد اور عمومی پریشانیوں کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت منقول ہے، اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے بطور علاج  اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم اس میں درج ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:

1۔۔ اس عمل کے سنت یا مستحب ہونے کا اعتقاد نہ ہو۔

2۔۔  اس کو لازم اور ضروری سمجھ کر  نہ کیا جائے۔

3۔۔ مساجد میں یہ اذان نہ دی جائے۔

4۔۔  اس کے لیے کسی مخصوص ہیئت اور  اجتماعی کیفیت کا التزام نہ کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے :

" مطلب في المواضع التي يندب لها الأذان في غير الصلاة

(قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فيه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه في الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه في فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر في التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد في شرعة الإسلام لمن ضل الطريق في أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي في شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن في أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة في ذلك فراجعه. اهـ". (1/385،باب الاذان، ط: سعید ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200210

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے