بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عذر کی وجہ سے نمازی کے سامنے سے گزرنے کا حکم


سوال

 اگر کوئی شخص بیمار ہو اور شدید عذر  لاحق ہوجائے ، تو اس حالت میں نمازی کے آگے سے گزرنے کی گنجائش ہوگی کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  دوران نماز  اگر نمازی کو کوئی ایسا  سخت عذر لاحق ہو   کہ اس کے لیے نماز سے باہر نکلنا ضروری ہوتو  صفوں میں جس جانب سے راستہ ہو  اسی جانب سے مسجد سے باہر نکل جائے، ورنہ صفوں کو چیرتے ہوئے نکل  جائےاوراگر صفوں سے بآسانی نکلنا ممکن نہ ہو تو نمازیوں کے آگے سے بھی گزرنا جائز ہے ؛کیونکہ یہ نماز کی اصلاح کےلیے ہے اور نماز کی اصلاح کےلیے نمازیوں کے سامنے سے گزرنا جائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو وجد فرجة في الأول لا الثاني له خرق الثاني لتقصيرهم، وفي الحديث "من سد فرجة غفر له".

قوله: لتقصيرهم: يفيد أن الكلام فيما إذا شرعوا. وفي القنية قام في آخر صف وبينه وبين الصفوف مواضع خالية فللداخل أن يمر بين يديه ليصل الصفوف لأنه أسقط حرمة نفسه فلايأثم المار بين يديه، دل عليه ما في الفردوس عن ابن عباس عنه صلى الله عليه وسلم "من نظر إلى فرجة في صف فليسدها بنفسه؛ فإن لم يفعل فمر مار فليتخط على رقبته فإنه لا حرمة له."أي فليتخط المار على رقبة من لم يسد الفرجة."

(کتاب الصلوٰۃ،باب الامامۃ،ج:1،ص: 570،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101714

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں