
اگر کوئی شخص بیمار ہو اور شدید عذر لاحق ہوجائے ، تو اس حالت میں نمازی کے آگے سے گزرنے کی گنجائش ہوگی کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں دوران نماز اگر نمازی کو کوئی ایسا سخت عذر لاحق ہو کہ اس کے لیے نماز سے باہر نکلنا ضروری ہوتو صفوں میں جس جانب سے راستہ ہو اسی جانب سے مسجد سے باہر نکل جائے، ورنہ صفوں کو چیرتے ہوئے نکل جائےاوراگر صفوں سے بآسانی نکلنا ممکن نہ ہو تو نمازیوں کے آگے سے بھی گزرنا جائز ہے ؛کیونکہ یہ نماز کی اصلاح کےلیے ہے اور نماز کی اصلاح کےلیے نمازیوں کے سامنے سے گزرنا جائز ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولو وجد فرجة في الأول لا الثاني له خرق الثاني لتقصيرهم، وفي الحديث "من سد فرجة غفر له".
قوله: لتقصيرهم: يفيد أن الكلام فيما إذا شرعوا. وفي القنية قام في آخر صف وبينه وبين الصفوف مواضع خالية فللداخل أن يمر بين يديه ليصل الصفوف لأنه أسقط حرمة نفسه فلايأثم المار بين يديه، دل عليه ما في الفردوس عن ابن عباس عنه صلى الله عليه وسلم "من نظر إلى فرجة في صف فليسدها بنفسه؛ فإن لم يفعل فمر مار فليتخط على رقبته فإنه لا حرمة له."أي فليتخط المار على رقبة من لم يسد الفرجة."
(کتاب الصلوٰۃ،باب الامامۃ،ج:1،ص: 570،ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610101714
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن