بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عشر کا مصرف، مسجد مدرسہ میں دینا


سوال

عشر مسجد مدرسے کے لیے دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا عشر کی رقم سے لوگوں کے لیے کنواں ٹیوب ویل  وغیرہ بنایا جا سکتا ہے؟  یا دوسرے فلاحی کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ عشر کس کو دیا جائے؟

جواب

عشر کا مصرف وہی ہے جو زکات   کا مصرف ہے، یعنی جو  شخص غریب اور ضروت مند ہو  اور اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد   ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  رقم نہ ہو، اور نہ ہی  اس  قدر ضرورت و استعمال سے زائد  سامان ہو   جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی  ہو اور نہ  ہی  وہ سید، ہاشمی ہو تو اس شخص کے لیے عشر لینا جائز ہے، اور اس کو عشر دینے سے عشر ادا ہوجائے گا۔

عشر کی رقم براہِ راست مسجد اور مدرسہ میں دینا درست نہیں، اسی طرح اس سے کنواں و ٹیوب ویل بنوانا یا کسی دوسرے فلاحی ادارے میں دینا یا کوئی فلاحی کام کروانا بھی جائز نہیں، تا ہم اگر کسی غریب مستحق زکات شخص کو عشر کی رقم مالک بنا کر دے دی جائے اور وہ خود یہ رقم مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں لگائے  یا کسی دوسرے فلاحی کام میں لگائےتو ایسا کرنا جائز ہوگا۔

فتاوی ٰ شامی میں ہے :

"باب المصرفأي مصرف الزكاة والعشر وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم (هو فقير وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة (ومسكين من شيء له) على المذهب؛ لقوله تعالى: { أو مسكيناً ذا متربة } [البلد 13] وآية السفينة للترحم (وعامل) يعم الساعي والعاشر (فيعطي) ولو غنياً لا هاشمياً؛ لأنه فرغ نفسه لهذا العمل فيحتاج إلى الكفاية والغني لايمنع من تناولها عند الحاجة كابن السبيل."

(كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:339، ط:دار الفكر۔بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101450

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں