
1.ہمارے علاقہ میں بعض علماء اور مدارس سے وابستہ افراد عملیات کا کام کرتے ہیں، ان کے مریضوں میں مرد اور عورتیں دونوں ہوتے ہیں، اور عورتوں کو دم کرتے ہوئے ان کا ہاتھ (جبکہ ہاتھ ننگا ہوتا ہے) کہنی تک پکڑ کر دم کرتے ہیں۔
2.کسی اجنبیہ کا اس طرح بازو پکڑ کر یا جسم کو چھو کر دم کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا ایسا شخص فاسق کہلائے گا؟اگر ناجائز ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
3. اگر کوئی مدرسہ کا تنخواہ دار مدرس اپنی تدریسی ذمہ داریوں کے باوجود متعین کمرہ میں باقاعدگی سے مریض دیکھے، جس کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیم اور تدریس میں خلل واقع ہوتا ہو تو ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
4.مریض عورتوں کاعلاج کے لیے بے پردہ یا باپردہ مدرسہ میں آنا کیسا ہے؟
1.نامحرم خواتین کو دم کرتے ہوئے ان کے بدن کو چھونا حرام ہے، نیز بدن کے بے لباس حصہ کو چھونا مزید سخت تر ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
2.اگر واقعۃً سائل کا بیان درست ہو اور امام میں مذکورہ برائی ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا، اگر قریبی مسجد میں متدین و متقی امام موجود ہو تو اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی جائے، البتہ اگر ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ لی تو نماز ادا ہوجائے گی، البتہ مذکورہ شخص میں مذکورہ برائی نہیں ہے تو یہ الزام لگانے والا عنداللہ سخت مجرم ہوگا۔
3.مدرِس کو جو مدرسہ تنخواہ دیتا ہے وہ وقت کے عوض دیتا ہے، اس دوران اگر مدرسہ کی اجازت بغیر کوئی اور کام کرےگا تو یہ ناجائز ہوگا، اور ان اوقات کی تنخواہ مدرسہ سے لینا جائز نہیں ہوگا ۔
4.تعلیمی اوقات کے علاوہ، یا ارباب مدرسہ کی اجازت سے دم کرنے کی صورت میں اگر عورتوں کو مدرسہ میں آنا پڑے تو ان کو پردہ کا پابند کیا جائے، بےپردگی کی صورت میں مدرسہ میں اجازت نہ دی جائے۔نیز غیر محرم عورت کے ساتھ دم کرنے کے لیے بھی تنہائی ناجائز ہے وحرام ہے، پاپردہ عورت کے ساتھ محرم ہو تو شرعی حدود و قیود میں رہتے ہوئے دم کرانے کی اجازت ہوگی۔
البحر الرائق میں ہیں:
"قال: - رحمه الله - (ويمس ما يحل له النظر إليه) يعني يجوز أن يمس ما حل له النظر إليه من محارمه ومن الرجل لا من الأجنبية."
(کتاب الكراهية، فصل في النظر والمس،ج: 8، ص: 221، ط: دارالكتاب الاسلامي)
در مختار میں ہے:
"(وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها ... (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ."
(کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس،ج: 6، ص: 367، ط: دارالفکر بیروت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"ولا يحل له أن يمس وجهها، ولا كفها، وإن كان يأمن الشهوة."
(كتاب الكراهية، الباب الثامن، ج: 5، ص: 329، ط: دار الفكر بيروت)
حاشیۃ طحطاوی میں ہے:
"كره إمامة "الفاسق" العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه إلى غير مسجده للجمعة وغيرها وإن لم يقم الجمعة إلا هو تصلى معه."
(کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان الأحق بالإمامة، ص: 303، ط: دار الکتب العلمیة)
مشکاۃ شریف میں ہے:
"عن أبي المليح قال: قدم على عائشة نسوة من أهل حمص، فقالت: من أين أنتن ؟ ... قالت: فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لاتخلع امرأة ثيابها في غير بيت زوجها إلا هتكت الستر بينها وبين ربها".
(مشكاة، ص: 383، واللفظ للترمذي: 102)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100664
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن